گوشت ضرورکھائیے مگر اعتدال کے ساتھ! قربانی کا گوشت آپ کے جسم کو کون سی طاقت فراہم کرتا ہے؟

عید الاضحٰی کی آمد کے ساتھ ہر گھر میں گوشت کے پکوان بننے شروع ہوجاتے ہیں، لیکن کچھ لوگ گوشت کھانے سے گھبراتے ہیں، انہیں لگتا ہے کہ سرخ گوشت صحت کے لئے نقصان دہ ہے۔
جبکہ ماہرین غذائیت نے گوشت کو بطور غذا و دوا مفید قرار دیا ہے۔ اس کی تاثیر گرم تر ہے۔ یہ جسم میں خون اور گوشت بڑھاتا ہے۔ بادی پن دور کرتا اور طاقت بخشتا ہے۔ بدن کو موٹا اور جسم میں چربی پیدا کرتا ہے۔ البتہ اس کا کثرت سے استعمال دماغ کو کند کردیتا ہے۔

گوشت کو زیادہ کیوں نہ کھائیں؟

جدید تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گوشت کے اجزاء چربی، نمک اور پانی پر مشتمل ہیں۔ چربی میں وٹامن ’’اے‘‘ پایا جاتا ہے جس سے ہڈیوں کوغذا پہنچتی ہے، یہ غذائیت بخش ہے۔ تاہم گوشت خاص کر سرخ گوشت کا بہت زیادہ یا روزانہ استعمال سے گردوں میں یورک ایسڈ کی جو زیادتی ہو جاتی ہے، گردے اسے بآسانی خارج نہیں کر سکتے۔ گوشت بدن میں صفرا زیادہ کرتا ہے۔ ازحد گوشت خوری سے مثانے اور گردے کے امراض رونما ہوتے ہیں۔ جگر، گردوں، قلب اور دوسرے اعضا بدن کے فعل میں نقص آ جاتا ہے۔ اس لیے سرخ گوشت کا استعمال کم کرنا چاہیے۔
گوشت عموماً خوب بھون کر پکایا جاتا ہے۔ اس طریقے سے گوشت کے مقوی اجزا جل جاتے ہیں۔ حیاتین بھی ضائع ہوتے ہیں۔ روغنی اجزا بھی نہیں رہتے۔ چناںچہ اسے کھانے کا طریقہ یہ ہے کہ ابلا ہوا گوشت کھایا جائے۔ یا بہترین گُر یہ ہے کہ پہلے گوشت کو مصالحہ وغیرہ ڈال کر بھون لیں پھر پانی ڈال کر پکائیے۔ یوں گوشت کی ساری طاقت شوربے میں آ جاتی ہے۔ اسی لیے شوربا زیادہ مفید ہے۔اس طریقے میں گوشت کی بوٹی فائدہ مند نہیں رہتی بلکہ قدرے قابض ہو جاتی ہے۔ اسی لیے گوشت کے ساتھ سبزی ڈال کر پکانا مفید ہے۔ یوں اس کی مضرت کم ہو جاتی ہے۔ سبزی کی وجہ سے گوشت فائدہ مند اور صحت بخش غذا بن جاتا ہے۔ دماغی کام کرنے والے افراد گوشت کبھی کبھی کھائیں۔

گوشت فائدہ مند کیوں ہے؟

حضرت ابو الدرداؓ کی حدیث سے مروی ہے۔ آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا ’’دنیا والوں اور جنتیوں کے کھانے کا سردار گوشت ہے۔‘‘ امام زہری نے بیان کیا ہے کہ گوشت خوری سے70 قوتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ گوشت خوری سے بصارت تیز ہوتی ہے۔ چناںچہ حضرت علیؓ سے مروی ہے، آپ صلی الله علیه وسلم نے فرمایا کہ گوشت کھاؤ، اس لیے کہ یہ بدن کے رنگ کو نکھارتا ہے۔ پیٹ بڑھنے نہیں دیتا۔ اخلاق و عادات بہتر بناتا ہے۔ نافع کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمرؓ ماہ رمضان میں اکثر گوشت کھاتے تھے۔ حضرت علیؓ سے منقول ہے کہ جس نے چالیس رات گوشت کھانا چھوڑ دیا، اس کا اخلاق برا ہو جائے گا۔

قربانی کا گوشت:

گوشت کی مختلف اقسام ہیں۔ وہ اپنے اصول و طبیعت کے اعتبار سے مختلف ہیں۔ مگر یہاں صرف قربانی کے جانوروں کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

بھیڑ کا گوشت

بھیڑ کا گوشت جسمانی گوشت بڑھاتا اور طاقت بخشتا ہے۔ ایک سالہ بھیڑ کا گوشت سب سے عمدہ ہوتا ہے۔ جس کا ہاضمہ اچھا ہو، اس میں صالح خون پیدا کرتا ہے۔ سرد اور معتدل مزاج والوں کے لیے عمدہ غذا ہے۔ جو لوگ سرد مقامات میں رہیں اور سرما میں محنت و ریاضت کریں، ان کے لئے مفید ہے۔ ذہن اور حافظہ قوی بناتا ہے۔ اس میں چربی زیادہ ہوتی ہے۔ نبی کریم صلی الله علیه وسلم کو اگلے حصے اور سر کو چھوڑ کر بالائی حصے کا گوشت بہت زیادہ مرغوب تھا۔ یہ زیریں حصہ کے مقابلے میں زیادہ ہلکا اور عمدہ ہوتا ہے۔ گردن کا گوشت زود ہضم اور ہلکا ہے۔ دست کا سب سے، لذیذ اور زود ہضم ہوتا ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مذکور ہے کہ حضورصلی الله علیه وسلم کو پشت کا گوشت مرغوب تھا کہ اس میں غذائیت زیادہ ہوتی ہے۔

بکری کا گوشت

اس کا مزاج گرم تر ہے۔ یہ طاقت بخش ہے۔ خون پیدا کرتا ہے۔ تپ دق، اور کمزوری میں اس کی یخنی مفید ہے۔ ماہرین طب کی تحقیق کے مطابق بکری یا بکرے کے جس عضو کا گوشت کھایا جائے، انسان کے اسی عضو کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔ ایک روایت میں حضورصلی الله علیه وسلم نے فرمایا ’’بکری کی نگہداشت اچھی طرح کرو اور اس سے تکلیف دور کرتے رہو اس لیے کہ یہ جنت کے چوپایوں میں سے ہے۔‘‘ بکری کے ایک سالہ بچے کا گوشت معتدل ہوتا ہے۔ حضورصلی الله علیه وسلم نے فرمایا: ’’بکری کے پچھلے حصہ (پُٹھ) کو پکا کر گلا دیا جائے۔ اس کا شوربا تین دن تک پلایاجائے۔‘‘

گائے کا گوشت

اس کا مزاج سرد خشک ہوتا ہے۔ دیر ہضم ہے۔ محنتی اور جفاکش لوگوں کے لیے مناسب گوشت ہے۔ مگر اسے زیادہ استعمال کرنے سے سوداوی امراض جیسے برص، خارش، درد، جذام، فیل پا، کینسر، مسلسل بخاروں کا آنا چمٹ سکتے ہیں۔ یہ سب بیماریاں اس شخص کو لاحق ہوتی ہیں جو گائے کے گوشت کا عادی نہ ہو اوراس کے مضر اثرات مرچ سیاہ، لہسن اور دارچینی و سونٹھ وغیرہ سے دور کرے۔ اطباء نے گائے کے گوشت کو دیر ہضم اور خراب خون پیدا کرنے والا بتایا ہے۔ اپھارے کی شکایت لاحق کرتا ہے۔ سوداوی امراض، گٹھیا اور عرق النساء میں نقصان دہ ہے۔

اونٹ کا گوشت

حضورصلی الله علیه وسلم اور اصحابہ اکرام نے سفر اور حضر میں اس کو استعمال کیا ہے۔ اونٹ کے بچے کا گوشت لذیذ ترین، پاکیزہ اور مقوی ہے۔ بھیڑ کے گوشت کی طرح جو اس کا عادی ہو، اسے کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچاتا۔ شہروں کے لوگ بہت کم پسند کرتے ہیں۔ مگر دیہات اور صحرائی علاقوں میں اس کا کثرت سے استعمال ہوتا ہے۔ یہ گوشت دیرسے ہضم ہونے کے باعث سوداپیدا کرتا ہے۔۔
عیدالاضحی کے موقع پر قربانی کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر شخص کے پاس گوشت کی وافر مقدارجمع ہو جاتی ہے۔ چناںچہ گوشت دھو کر استعمال کیجیے۔ گوشت ضرورکھائیے مگر اعتدال کے ساتھ! گوشت کے کثرت استعمال سے نہ صرف مسوڑھوں میں خرابی پیدا ہوتی ہے بلکہ مرض کینسر بھی چمٹنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس لیے گوشت کو سبزیوں کے مقابلے میں کم استعمال کیجیے۔

By Afshan    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    483 Views    |    06 Jul 2022

Related Articles

Comments/Ask Question

Read Blog about گوشت ضرورکھائیے مگر اعتدال کے ساتھ! قربانی کا گوشت آپ کے جسم کو کون سی طاقت فراہم کرتا ہے؟ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (گوشت ضرورکھائیے مگر اعتدال کے ساتھ! قربانی کا گوشت آپ کے جسم کو کون سی طاقت فراہم کرتا ہے؟) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.