کیا آپ کے گھر بھی مرغی کا گوشت بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے تو ٹہرئیے! پہلے یہ حقائق جان لیں کہ۔۔۔۔

اس وقت پوری دنیا میں مرغی کے گوشت کا بے تحاشہ استعمال کیا جاریا ہے، چاہے گھر ہو یا ریسٹورینٹس ہر جگہ مرغی کے گوشت کی ڈشز مقبولِ عام ہیں۔ پاکستان میں بھی خاص کر نوجوان نسل توسرخ گوشت یعنی گائے یا بکرے کے گوشت کا استعمال بالکل ہی چھوڑ چکی ہے۔ دنیا بھر میں مرغی کے گوشت کی اتنی مانگ نے مرغی کی پروڈکشن پر سوالیہ نشان اٹھا دیا ہے۔ کہ ضرورت کے مطابق اتنی مرغیاں کہاں سے لائی جائیں۔ اسی نظریہ ضرورت نے اس کے معیار اور غذائیت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ جو مرغی آج دنیا بھر میں بطور غذا استعمال کی جارہی ہے اس کے سائز میں پچھلے 50 برسوں میں 364 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
مرغی کے گوشت میں اضافی طلب نے اس بات کو بڑھاوا دیا کہ مرغی کو مصنوعی ہارمونز اور کیمیکل والی غذاؤں سے جلدی بڑا کیا جائے تاکہ وہ جلد مارکیٹ میں لائی جا سکے۔ خاص کر پاکستان میں ان مرغیوں کو جلدی بڑا کرنے کے لئے مختلف انجیکشنز اور مختلف کیمیکل ملا دانہ کھلایا جاتا ہے تاکہ یہ کم وقت میں جلد بڑی ہو جائیں۔ اس وقت اگر مرغی کے گوشت کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ہم گوشت کے نام پر صرف بیماریاں خرید رہے ہیں۔
ویسے اگر دیکھا جائے تو ایک نارمل مرغی 4 ماہ میں تیار ہوتی ہے، جبکہ اس وقت فارمز پر یہ مرغی 47 دن میں تیار کی جارہی ہے۔ تاکہ جلدی اس کو مارکیٹ میں بھیجا جا سکے۔ ویسے مرغیوں کی عام خوراک گھاس پھوس اور دانہ چاول وغیرہ ہے، لیکن اس وقت ان کی فیڈ مختلف اجزاء خاص کر کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہوتی ہے جو کہ چکن کو جلد بڑا کردیتی ہے۔ کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل خوراک انسانوں اور جانوروں دونوں میں موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔ اسی لئے انسانوں کو بھی جب ڈائٹ کروائی جاتی ہے تو سب سے پہلے کاربوہائیڈریٹ والی غذاؤں کو بند کیا جاتا ہے۔
مرغیوں کو جو کچھ بھی کھلایا جاتا ہے وہ ان کے گوشت کے ذریعے ہمارے اندر بھی منتقل ہو جاتا ہے اسی لئے اس وقت لوگوں میں بیماریوں کا تناسب بڑھتا چلا جارہا ہے۔ مثال کے طور پر فارمی چکن میں اومیگا 6 سے اومیگا 3 کا تناسب زیادہ ہوتا ہے جبکہ چراگاہوں کے قدرتی ماحول پالی جانے والی مرغیوں میں یہ تناسب نہایت کم ہوتا ہے۔
چکن تمام ضروری غذائی اجزا کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ چکن پروٹین، کیلشیم، امینو ایسڈ، وٹامن بی 3 ، وٹامن بی 6 ، میگنیشیم اور دیگر اہم غذائی اجزا کا بھرپور ذریعہ ہے۔ لیکن اب مرغیوں کی ان مصنوعی خوراک کی وجہ سے اس کے کھانے میں فائدے کم اور نقصانات زیادہ ہیں۔ اسی لئے کوشش کی جائے کہ کھائیں تو دیسی مرغی کھائیں کیونکہ برائلر مرغی کا مسلسل استعمال آپ کو بیمار کر سکتا ہے۔
چکن میں کچھ ایسے بیکٹیریا بھی پائے جاتے ہیں جو کہ ہمارے لئے خاصے نقصان دہ ہیں۔

سیلمونیلا

یہ ایک بیکٹیریا ہے جو کہ متعدد جگہوں پر دستیاب مرغی کے گوشت میں پایا گیا ہے۔ یہ بیکٹیریا سارے جسم پر خطرناک سوزش پیدا کرسکتا ہے، اس سے بچنے کیلئے گوشت کو بلند درجہ حرارت پر پکانا چاہیے۔

ای کولی

مرغی کے گوشت میں سیلمونیلا سے بھی خطرناک جراثیم ای کولی بکثرت پایا گیا ہے اس کی وجہ سے پیشاب کی نالی کا انفیکشن پیدا ہوسکتا ہے۔

آرسینک کا استعمال

مرغیوں کی خوراک میں خطرناک کیمیکل آرسینک استعمال کیا جاتا ہے تاکہ گوشت کا وزن بڑھایا جاسکے۔ یہ جان لیوا بھی ہوسکتا ہے اور بہت سی بیماریوں کا موجب ہے۔

اینٹی بایوٹک اجزاء

مرغیوں کی خوراک میں اینٹی بائیوٹک اجزاءکا بھاری مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا گوشت کھانے والوں پر اینٹی بائیوٹک ادویات کا اثر نہیں ہوتا۔

اینیمیا کا خطرہ

چکن نگٹس میں چربی ، جلد اور اندرونی اعضاءمیں پائی جانے والی خون کی نالیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ ان کو کھانے سے خون کی بیماری انیمیا اور جسم کی رگیں پھولنے کا مسئلہ پیش آسکتا ہے

By Afshan    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    2381 Views    |    17 May 2022

Comments/Ask Question

Read Blog about کیا آپ کے گھر بھی مرغی کا گوشت بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے تو ٹہرئیے! پہلے یہ حقائق جان لیں کہ۔۔۔۔ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (کیا آپ کے گھر بھی مرغی کا گوشت بہت زیادہ استعمال کیا جارہا ہے تو ٹہرئیے! پہلے یہ حقائق جان لیں کہ۔۔۔۔) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.