کیاآپ کو جڑواں بچوں کی خواہش ہے تو جانئے کہ کن خواتین کے لئے یہ ممکن ہو سکتا ہے

کسی بھی عورت کے لئے ماں بننا اس کی زندگی کا سب سے خوشیوں اور مسرتوں بھرا لمحہ ہوتا ہے اور اگر وہ ایک سے زیادہ بچوں کی ماں بن جائے تو اس کی خوشی دوہری ہو جاتی ہے۔ ویسے تو دنیا بھر میں کئی والدین کے یہاں جڑوا ں یعنی ایک سے زیادہ بچے جنم لیتے ہیں مگر آپ نے کبھی غور کیا ہوگا ان میں کچھ ایک جیسی جنس اور شباہت رکھتے ہیں جبکہ کچھ الگ یعنی دو نوں نہ صرف مختلف جنس رکھتے ہیں بلکہ دونوں ایک ہی جنس رکھنے پر بھی چہرے کے خدوخال میں مختلف ہوتے ہیں۔ اس کے لئے کوئی بات بھی وثوق سے نہیں کہی جاسکتی کہ کس طرح کی خواتین میں جڑواں بچوں کا حمل ٹھہر سکتا ہے۔ لیکن سائنسی تحقیق اور مشاہدات اس جانب اشارہ کرتے ہیں اگر خواتین ان عوامل سے گزرے یا ان خصوصیات کی حامل ہو تو ان میں جڑواں بچوں کا حمل ہوتے دیکھا گیا ہے۔، یہ کس طرح ممکن ہو تا ہے او ر کن خواتین میں جڑواں بچوں کی پیدائش کا امکان زیادہ ہوتا ہے دو سو میں سے ایک حمل ایسا ہوتا ہے جس میں جڑواں بچوں کاامکان ہوتا ہے۔یہاں یہ جاننا ضروری ہے کہ جڑواں بچوں کا حمل ایک پیچیدہ حمل ہوتا ہے اور یہ کسی حدتک خطرناک بھی ہوتا ہے، یہ دو طرح سے ہوتا ہے،ان میں سے ایک Identical twinsکہلاتا ہے جبکہ دوسرے کوFraternal twinکہا جاتا ہے یہ کس طرح سے ہوتا ہے آیئے جانتے ہیں۔

ٰIdentical twins

اس میں جب ایک انڈہ اسپرم کے ساتھ مل کر بچہ بننے کے عمل میں داخل ہوجاتا ہے اور حمل ٹھہر جاتا ہے تو تھوڑا سا حمل گزرنے کے بعد وہ قدرتی طور پر از خود ہی دو انڈوں میں تقسیم ہوجاتا ہے اس طرح دو حمل ٹھہر جاتے ہیں۔اس حمل کے نتیجے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ دونوں ایک ہی جیسی جنس اور شباہت کے ہوں گے۔اکثر خواتین اسی طرح کے حمل خواہش کا اظہار کرتی ہیں یہ حمل بہت ہی کم یعنی ہزار میں سے تین سے چار ہوسکتے ہیں۔

ٖFraternal twins

اس طرح کے حمل میں ایک ہی وقت میں دو انڈے حمل کے دورسے گزرتے ہیں اس طرح سے جو بچے پیدا ہوتے ہیں وہ دونوں ایک جیسی جنس کے بھی ہو سکتے ہیں اور الگ الگ بھی، نہ صرف ان کے چہروں کے خدوخال اور شباہت مختلف ہوگی بلکہ یہ ایک دوسرے سے اندرونی اور بیرونی طور پر بھی کافی مختلف ہوں گے۔
کن خواتین میں جڑواں بچوں کا حمل ٹھہرنے کے امکان زیادہ ہو سکتے ہیں۔

جین

اس کا سارا درومدار جین پر وہوتا ہے، اگر آپ کے جینز میں یعنی آپ کے خاندان میں جڑواں بچوں کی پیدائش ہوتی رہتی ہے یا آپ جڑواں ہیں یا آپ کے والدین میں سے کوئی جڑواں ہے تو اس کا مکان بڑھ جاتا ہے کہ آپ کے یہاں بھی جڑواں بچوں کی پیدائش ہوسکتی ہے۔

عمر

آج کل دیکھا گیا ہے کہ خواتین تعلیم مکمل کر کے اپنا کیریئر بنانا چاہتی ہیں پھر شادی کرتی ہیں اور دیر سے فیملی کا ارادہ کرتی ہیں یعنی بچے کی پیدائش میں خود وقفہ لیتی ہیں، اس طرح جیسے جیسے ان کی عمر بڑھتی ہیں ہارمونز میں بھی اسی تناسب سے تبدیلی آتی ہے جس کے نتیجے میں کبھی کبھی دو انڈے ایک ساتھ حمل کے دور سے گزرتے ہیں اور جڑواں بچوں کی پیدائش ممکن ہو جاتی ہے، اس طرح بڑھتی عمر میں جڑواں بچوں کے حمل کا امکان بڑھ سکتا ہے، اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ آپ اس مقصد کے لئے دیر سے شادی کریں،یا بڑی عمر میں شادی کریں۔کیونکہ بڑی عمرمیں کبھی کبھار ماں بننے کے لئے کافی پیچیدگیوں سے گزرنا پڑتا ہے۔اس لئے شادی بیس سے تیس کی عمر میں کر لینی چاہئے۔

وزن

وزن میں اضافہ بھی اس طرح کے امکان کو بڑھا دیتا ہے کیو نکہ ایسی خواتین جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے ان میں بھی ہارمونز میں بے قاعدگی ہوتی ہے جس کی نتیجے میں ایک کی جگہ دو انڈے باہر آجاتے ہیں اور اس وقت حمل ٹہھر جائے تو جڑواں بچوں کی پیدائش ممکن ہو جاتی ہے۔اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ اپنا وزن بڑھا لیں اور اس کاخیال نہ رکھیں یہ صرف ایک امکان ہے کہ ایسا ہوتے دیکھا گیا ہے لیکن ہر ایک کے لئے ایسا نہیں ہے۔

ادویات

قدرتی طریقوں کے علاوہ ایک اور طریقہ ہے جس سے جڑواں بچوں کی پیدائش کا امکان ہو سکتا ہے اس مقصد کے لئے ادویات تجویز کی جاتی ہیں یعنی انڈے بنانے کے لئے مختلف ادویات استعمال کروائیں جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ایک کی جگہ دو انڈے بن جاتے اور اس طرح جڑواں بچوں کی پیدائش ہوسکتی ہیں۔

زیادہ بچوں کا ہونا

اگر کسی عورت کے دو،تین یا چار بچے پیداہو گئے ہیں تو اگلا حمل جڑواں بچوں کا ہوسکتا ہے یعنی زیادہ بچوں کا ہونا بھی ایک امکان ہے کہ آپ کے یہاں جڑواں بچے پیدا ہوسکتے ہیں لیکن یہ صرف ایک امکان ہیں اس کامطلب ہر گز یہ نہیں آپ اس مقصد کے لئے بار بار اس عمل سے گزریں۔

جڑواں بچے

اگر کسی خاتوں کے یہاں جڑواں بچے پیدا ہو چکے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہیں کہ اس کے یہاں پھر سے جڑواں بچوں کی پیدائش ہو سکتی ہے۔یہ ساری باتیں وہ ہیں جو سائنس سے ثابت ہو چکی ہیں۔

احتیاط:

اس طرح کے حمل میں عام حمل کے مقابلے زیادہ الٹیاں ہوتی ہیں جیسا کہ پہلے ہی بتایا گیاہے کہ یہ ایک پیچیدہ حمل ہوتا ہے،حمل میں بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے ہو نے امکان بڑھ جاتا ہے،خون کی کمی ہو سکتی ہے۔نارمل ڈلیوری کی جگہ آپریشن کی ضرورت پیش آسکتی ہیں۔بچوں کی پیدائش کے بعد ماں میں کئی طرح کی پیچید گیاں جنم لے سکتی ہیں۔اسی لئے اس کی ڈلیوری ڈاکٹر کے زیر نگرانی کسی اچھے ہسپتال میں کی جانی چاہئے تاکہ ان مسائل پر نظر رکھی جا سکے اور بروقت علاج کیا جا سکے۔حمل کے دوران بچوں کو بھی کئی طرح کے نقصان کا ڈر رہتا ہے اس میں ابتدا ہی میں اسقاط حمل کا خطرہ رہتا ہے، وقت سے پہلے پیدائش کا امکان بڑھ سکتا ہے،بچے میں کوئی پیدائشی نقص ہو سکتا ہے۔ایک کی بچہ صحت مند ہو دوسرا کمزور بھی ہو سکتا ہے۔اگر دونوں بچے صحت مند ہیں اور ماں بھی کوئی بیماری نہیں ہے تو اس کی ڈلیوری نارمل کی جاسکتی ہے۔پیدائش کے بعد اگر دونوں بچوں کی اچھی طرح سے نگہداشت کی جائے تو یہ دونوں بچے عام بچوں کی طرح صحت مند زندگی گزاریں گے۔

By Hina    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    12557 Views    |    03 Nov 2021

Comments/Ask Question

Read Blog about کیاآپ کو جڑواں بچوں کی خواہش ہے تو جانئے کہ کن خواتین کے لئے یہ ممکن ہو سکتا ہے and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (کیاآپ کو جڑواں بچوں کی خواہش ہے تو جانئے کہ کن خواتین کے لئے یہ ممکن ہو سکتا ہے) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.