نمک نہیں گراؤ ورنہ قیامت کے دن آنکھوں سے اٹھانا پڑے گا۔۔ بزرگوں کی وہ حکمت والی باتیں جو تب سمجھ نہ آتی تھیں، مگر اب یاد آتی ہیں

ترقی کی دوڑ میں ہم لوگوں کی زندگی اتنی تیز رفتار ہو گئی ہے کہ ہم اپنے بزرگوں کے پاس بیٹھنا ہی بھول گئے ہیں- وہ صبح سے شام تک ہمارا انتظار کرتے رہتے ہیں اور ہم جب گھر واپس بھی آتے ہیں تو ہمارے پاس بزرگوں سے چند لفظ بولنے کا ٹائم بھی نہیں ہوتا ہے- اور ہم سب بس صرف اور صرف اپنے موبائل کی اسکرین میں گم ہاں ہوں میں جواب دیتے رہتے ہیں-

بزرگوں کا وہ وقت جب گھروں پر ان کی حکومت تھی

ماضی میں بزرگ ہمارے گھر کا مرکز ہوا کرتے تھے جن کی چارپائی کے گرد بچے بڑے کرسی رکھے بیٹھے ہوتے تھے اور وہ اپنے تجربات کی روشنی میں برے اور بھلے ایسے گر بتا رہے ہوتے تھے جس کے سائنسی شواہد بھلے موجود نہ ہوتے مگر وہ ہم کو ایسا سبق دے دیتے تھے جو زندگی بنا دیتے تھے- ایسی ہی کچھ معصوم باتیں جو بزرگوں کی کہی ہوئی تھیں آپ سے شئير کریں گے جو امید ہے آپ کو آپ کے بزرگوں کی یاد دلا دیں-

نمک کا احترام

اکثر بچپن میں بزرگ نمک اور دودھ کے حوالے سے یہ کہتے نظر آتے تھے کہ ان کا خیال رکھا کرو ان کو ضائع مت ہونے دیا کرو کیوں کہ یہ اللہ کے نور سے بنی چیزیں ہیں اور اگر کبھی کسی سے غلطی سے زمین پر نمک گر بھی جاتا تھا تو کہا جاتا تھا کہ فوراً اٹھاؤ ورنہ قیامت کے دن اس کو پلکوں سے اٹھانا پڑے گا-

فائدہ:

اس طریقے سے بزرگ بچوں کو کئی بڑی اہم چیزيں سکھاتے تھے ایک تو بچوں کے دل میں قیامت کا خوف پیدا کیا جاتا تھا کہ دنیا میں کیے گئے ہر عمل کا حساب آخرت میں دینا ہوگا- دوسری طرف اس طریقے سے بچوں میں رزق کو ضائع نہ کرنے کا بھی پیغام دیا جاتا تھا کہ کھانے کی سب سے معمولی جز نمک کو بھی ضائع کرنے کا حکم نہیں ہے تو باقی چیزوں کی بھی قدر لازمی ہے- جبکہ تیسرا سب سے بڑا فائدہ اللہ سے محبت کا ہوتا تھا کہ بچوں کے دل میں سفید چیز کا احترام اس طریقے سے پیدا ہو کہ اللہ کی ذات بھی سب سے پاک اور سفید ہے۔ بچپن میں تربیت کا یہ عنصر تاعمر انسان کے ساتھ رہتا-

عربی میں لکھے ہر حرف کا احترام

ماضی میں ماچس کی ڈبیہ پر فی الباکستانی یعنی پاکستان میں بنی ہوئی ہے لکھا ہوتا تھا جس کو دیکھ کر اکثر بزرگ خواتین اس ماچس کی ڈبیہ کو استعمال سے قبل چوم لیتی تھیں کہ اس پر عربی لکھی ہے یا پھر الماریوں میں کپڑے یا برتن رکھنے سے پہلے اردو کے بجائے انگریزی اخبار بچھائے جاتے تھے کہ ان میں اللہ کا نام ہوتا ہے اور اس کی بے ادبی نہ ہو-

فائدہ:

درحقیقت یہ سارے طریقے بچوں کے اندر قرآن کا احترام پیدا کرنے کے لیے کیا جاتا تھا کیوں کہ قرآن وہ کتاب ہے جس میں مکمل ضابطہ حیات موجود ہے اور اگر بچہ اس کا احترام کرے گا تو خود بخود اس کا احترام اس کے دل میں پیدا ہو جائے گا-

محلے کے بزرگ بھی چاچا ماما ہوتے تھے

ماضی میں جب کہ ہم انکل آنٹی جیسے لفظوں سے آشنا نہ تھے تو محلے کا ہر بزرگ ہمارے والد کی عمر کا ہمارا چاچا اور دادا کی عمر کا دادا ہوا کرتا تھا اور ان سب کے ویسے ہی احترام کا سبق دیا جاتا تھا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ یہی حقیقی رشتے ہیں اور وہ لوگ بھی ایسی ہی محبت دیا کرتے تھے-

فائدہ:

ہمسائے کے حقوق جو بزرگ ہمیں سکھانا چاہتے تھے اس کے لیے ضروری طریقے سے ان کو ہمارے خونی رشتوں سے جوڑ دیا جاتا تھا تاکہ ہم ان کے ساتھ بھی ویسی ہی محبت اور انسیت رکھیں جیسی خونی رشتوں سے رکھتے ہیں-

بڑی بیماریوں کا علاج دم کرنا

سر میں درد ہو یا یرقان ہو یا پھر نظر لگنا ہر تکلیف کا دم گھر کے بڑے بوڑھوں کے پاس تیار ہوتا تھا جس کو آج کل کے لوگ جاہلیت کہتے ہیں- مگر یہ بھول جاتے ہیں کہ بیماری بھی اللہ کی جانب سے ہے اور شفا بھی اللہ کی جانب سے ہے اور اگر دعا کے ذریعے اللہ سے مدد نہ مانگی جائے تو پھر دوا بھی بے کار ہو جاتی ہے- یہی وجہ تھی کہ ماضی میں دوا کے ساتھ ساتھ دم کر کے دعا کی اہمیت کو تسلیم کیا جاتا تھا-

فائدہ:

اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا تھا کہ انسان کا خدا پر یقین بڑھ جاتا تھا اور وہ اس بات کو قبول کر لیتا تھا کہ وہ جتنا بھی امیر جتنا بھی طاقتور ہو جائے لیکن اللہ کے ساتھ جڑنا اس کے لیے ضروری ہے-

یہ تمام کچھ ایسے نکات تھے جن کی سائنسی توجیح تو ہم نہیں دے سکتے مگر معاشرتی اعتبار سے یہ ہمارے لیے بہت ضروری تھیں- امید ہے ایسی ہی کچھ معصومانہ باتیں آپ کے بزرگ بھی کرتے ہوں گے-

Buzurgon Ki Baatein

Discover a variety of News articles on our page, including topics like Buzurgon Ki Baatein and other health issues. Get detailed insights and practical tips for Buzurgon Ki Baatein to help you on your journey to a healthier life. Our easy-to-read content keeps you informed and empowered as you work towards a better lifestyle.

By Salwa Noor  |   In News  |   0 Comments   |   976 Views   |   13 Nov 2023
About the Author:

Salwa Noor is a content writer with expertise in publishing news articles with strong academic background. Salwa Noor is dedicated content writer for news and featured content especially food recipes, daily life tips & tricks related topics and currently employed as content writer at kfoods.com.

Related Articles
Top Trending
COMMENTS | ASK QUESTION (Last Updated: 16 April 2024)

نمک نہیں گراؤ ورنہ قیامت کے دن آنکھوں سے اٹھانا پڑے گا۔۔ بزرگوں کی وہ حکمت والی باتیں جو تب سمجھ نہ آتی تھیں، مگر اب یاد آتی ہیں

نمک نہیں گراؤ ورنہ قیامت کے دن آنکھوں سے اٹھانا پڑے گا۔۔ بزرگوں کی وہ حکمت والی باتیں جو تب سمجھ نہ آتی تھیں، مگر اب یاد آتی ہیں ہر کسی کے لیے جاننا ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک اہم معلومات ہے۔ نمک نہیں گراؤ ورنہ قیامت کے دن آنکھوں سے اٹھانا پڑے گا۔۔ بزرگوں کی وہ حکمت والی باتیں جو تب سمجھ نہ آتی تھیں، مگر اب یاد آتی ہیں سے متعلق تفصیلی معلومات آپ کو اس آرٹیکل میں بآسانی مل جائے گی۔ ہمارے پیج پر کھانوں، مصالحوں، ادویات، بیماریوں، فیشن، سیلیبریٹیز، ٹپس اینڈ ٹرکس، ہربلسٹ اور مشہور شیف کی بتائی ہوئی ہر قسم کی ٹپ دستیاب ہے۔ مزید لائف ٹپس، صحت، قدرتی اجزاء اور ماڈرن ریمیڈی کے فوڈز میں موجود ہے۔