چھاتی کے کینسر کی علامات اور وجوہات کیا ہیں ؟کیا احتیاط کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تحقیق سے حاصل کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی شرح پورے ایشیائی خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ ہر نو میں سے ایک خاتون میں اس سرطان کے ہونے کے امکان ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ خواتین میں چھاتی کا کینسر ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ پورے پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی شرح دیگر اقسام کے سرطانوں کی نسبت 38.5 فیصد ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ہمارے ہاں 70 فیصد خواتین تیسرے سٹیج کے کینسر کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس آتی ہیں، جس کی بڑی وجہ چھاتی کے سرطان کے بارے میں بات کرنے کو ممنوع سمجھنا، علامات کو سنجیدگی سے نہ لینا، یا انہیں نظر اندازکرنا ہے۔
دنیا میں چھاتی کے کینسر کی اوسط عمر 55 سال ہے لیکن پاکستان میں یہ عمر 35 سال ہے۔ لیکن گذشتہ پانچ برس میں ہم دیکھ رہے ہیں کہ نوجوان بچیاں جن کی عمر 17، 18 یا 19 برس ہے وہ چھاتی کے سرطان کے ساتھ رپورٹ ہو رہی ہیں۔

ماہرین کیا کہتے ہیں؟

ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ غذا ہے۔ جو نئی تحقیق آرہی ہیں ان کے مطابق طرز زندگی میں تبدیلی سے سرطان کی بیماری کے امکان کو 40 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا میں بہت سے ایسے اجزائے ترکیبی، پریزرویٹیو، کھانوں کے رنگ وغیرہ ہیں جو کینسر کا سبب بنتے ہیں، جنہیں فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) نے تحقیق کے بعد ممنوع قرار دے دیا ہے، لیکن پاکستان میں ان کا استعمال کیا جارہا ہے۔ دوسری جانب کچھ ایسی غذائیں ہیں جن میں سٹیرائڈز کا استعمال کیا جاتا ہے جیسے مرغی یا بکرا کہ وہ جلدی بڑا ہو جائے یا گائے کہ وہ زیادہ دودھ دے۔ یہ سٹیرائڈز انسانوں کی صحت خاص طور پر خواتین کی صحت کے لیے انتہائی مضر ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خواتین میں یہ غذائیں ہارمونز میں عدم توازن (ہارمونل امبیلینس) پیدا کرتی ہیں۔ چھوٹی عمرکی بچیوں میں آج کل ہارمونل مسائل بہت زیادہ آرہے ہیں۔ ہارمونل عدم توازن براہ راست آپ کے ایسٹروجن لیول پر اثر انداز ہوتا ہے اور ایسٹروجن کا تعلق براہ راست چھاتی کے سرطان سے ہے۔
اکثر کہا جاتا ہے کہ اگر عورت اپنے بچے کو خود دودھ پلاتی ہے تو اسے چھاتی کا سرطان نہیں ہوتا لیکن اب ہمارے پاس چھوٹی بچیاں بھی اس سرطان کے ساتھ آرہی ہیں جن کی شادیاں بھی نہیں ہوئیں۔ ’ہاں یہ ضرور ہے کہ شادی شدہ خواتین جو اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہیں ان میں تین سے پانچ فیصد تک کینسر ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے لیکن ایسا ہر گز نہیں ہے کہ بچے کو اپنا دودھ پلانے والی خاتون کو چھاتی کا سرطان کبھی نہیں ہوتا۔‘

Breast Cancer Ki Alamat

Discover a variety of Health and Fitness articles on our page, including topics like Breast Cancer Ki Alamat and other health issues. Get detailed insights and practical tips for Breast Cancer Ki Alamat to help you on your journey to a healthier life. Our easy-to-read content keeps you informed and empowered as you work towards a better lifestyle.

By Misbah  |   In Health and Fitness  |   0 Comments   |   2351 Views   |   14 Feb 2022
About the Author:

Misbah is a content writer with expertise in publishing news articles with strong academic background. Misbah is dedicated content writer for news and featured content especially food recipes, daily life tips & tricks related topics and currently employed as content writer at kfoods.com.

Related Articles
Top Trending
COMMENTS | ASK QUESTION (Last Updated: 25 February 2024)

چھاتی کے کینسر کی علامات اور وجوہات کیا ہیں ؟کیا احتیاط کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے۔

چھاتی کے کینسر کی علامات اور وجوہات کیا ہیں ؟کیا احتیاط کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ ہر کسی کے لیے جاننا ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک اہم معلومات ہے۔ چھاتی کے کینسر کی علامات اور وجوہات کیا ہیں ؟کیا احتیاط کر کے اس سے بچا جا سکتا ہے۔ سے متعلق تفصیلی معلومات آپ کو اس آرٹیکل میں بآسانی مل جائے گی۔ ہمارے پیج پر کھانوں، مصالحوں، ادویات، بیماریوں، فیشن، سیلیبریٹیز، ٹپس اینڈ ٹرکس، ہربلسٹ اور مشہور شیف کی بتائی ہوئی ہر قسم کی ٹپ دستیاب ہے۔ مزید لائف ٹپس، صحت، قدرتی اجزاء اور ماڈرن ریمیڈی کے فوڈز میں موجود ہے۔