بچے کی پیدائش کے لیے اسپتال جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔ برطانوی شاہی خاندان میں ڈلیوری کے وقت بہوؤں کو کون سے سخت اصولوں کو ماننا لازمی ہوتا تھا؟

عام طور پر جب کسی لڑکے کے حاملہ ہونے کی خبر کا علم گھر کے بڑے بوڑھوں کو ہوتا ہے تو وہ اپنے اپنے تجربات کی روشنی میں لڑکی کو چند احتیاطیں بتاتے ہیں لیکن یہ صورتحال اور زیادہ نازک ہوجاتی ہے جب لڑکی برطانوی شہزادی ہو۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم بات کریں گے کہ شاہی خاندان کی خواتین پر دوران حمل کیا پابندیاں ہوتی تھیں؟

درد کم کرنے والی گولی بھی نہیں دی جاتی تھی

ویسے تو آج کے دور میں بھی ترقی یافتہ ممالک میں حاملہ عورتوں کو غیر ضروری ادویات نہیں دی جاتیں لیکن ایک وقت تھا جب برطانوی شاہی خاندان میں حاملہ خاتون کو زچگی کے وقت درد کم کرنے کی گولی دینے کا رواج بھی نہیں تھا۔ 1853 میں ملکہ الزبتھ وہ پہلی خاتون تھیں جنھوں نے زچگی کے عمل کے لئے خود کلوروفام مانگا تھا۔ ان کی اس بات سے لوگ ہی نہیں بلکہ ڈاکٹر بھی حیران رہ گئے تھے۔

بچوں کی پیدائش ہمیشہ گھر میں ہوتی تھی

جدید اسپتالوں میں مکمل سہولیات کے ساتھ بچے کو جنم دینے والی شہزادیوں کے لئے شاید یہ تصور کرنا بھی مشکل ہو کہ ان سے پہلے کی شہزادیاں اور ملکائیں گھر میں ہی بچوں کو جنم دیتی تھیں اور یہ وقت بھی ایک طرح سے ذاتی نہیں ہوتا تھا کیوں کہ اس وقت بہت سی خادمائیں اور رشتے دار خواتینن موجود ہوتی تھیں۔ اس کی وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کو کوئی بد خواہ تبدیل نہ کردے۔

ملکہ نے بیٹے کی پیدائش کے لئے چھٹیاں لیں

چونکہ ملکہ الزبتھ ملکی معاملات سنبھالتی تھیں اس لئے اپنے بیٹے شہزادہ چارلس کی پیدائش سے پہلے انھوں نے باقاعدہ چھٹیاں لیں اور سرکاری نوٹس جاری کیا گیا کہ “ملکہ الزبتھ جون کے آخر تک عوامی مصروفیات میں شامل نہیں ہوں گی

ولادت کے موقع پر شوہر کی اہمیت

ملکہ الزبتھ کا خیال تھا کہ بچے باپ کی بھی اتنی ہی ذمہ داری ہوتے ہیں جتنی کے ماں کی اس لئے باپ کو بھی شروع سے ماں کے ساتھ مل کر اس ذمہ داری کو بانٹنا چاہئیے۔ ملکہ الزبتھ نے اپنے چوتھے بیٹے شہزادہ ایڈورڈ کی پیدائش کے موقع پر اپنے شوہر شہزادہ فلپ کو بلایا تاکہ وہ بچے کی پیدائش کے بعد اسے سنبھالنے میں مدد کرسکیں۔

شہزادی ڈیانا پہلی خاتون جو اسپتال گئیں

شہزادی ڈیانا جنھیں برطانوی تاریخ کی روایت شکن شہزادی سمجھا جاتا ہے انھوں نے بچوں کی پیدائش پر بھی محل کی کافی روایتیں توڑ ڈالیں۔ اپنی ساس کی طرح گھر پر بچے جنم دینے کے بجائے انھوں نے اسپتال جانے کو ترجیح دی۔ اتنا ہی نہیں بلکہ انھوں نے ملکہ کی طرح خود کو عوام سے دور رکھنے کے بجائے کھل کر اپنے حمل کے متعلق اور اس سے متعلق ذہنی تناؤ جیسے مسائل پر بات کی۔

By Humaira  |   In Health and Fitness  |   0 Comments   |   3184 Views   |   09 Sep 2022
Related Articles
Top Trending
Comments/Ask Question

Read Blog about بچے کی پیدائش کے لیے اسپتال جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔ برطانوی شاہی خاندان میں ڈلیوری کے وقت بہوؤں کو کون سے سخت اصولوں کو ماننا لازمی ہوتا تھا؟ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (بچے کی پیدائش کے لیے اسپتال جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔۔ برطانوی شاہی خاندان میں ڈلیوری کے وقت بہوؤں کو کون سے سخت اصولوں کو ماننا لازمی ہوتا تھا؟) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.