کیا آپ کے پیروں میں بھی سوئیاں چبھتی ہیں یا ان میں سنسناہٹ کا احساس رہتا ہے؟

اکثر ہم زیادہ دیر تک ایک ہی پوزیشن میں بیٹھیں یا ایک سا بیٹھ کر کام کر رہے ہوں تو ہمارے پیر سن ہوجاتے ہیں یا ان میں سنسناہٹ ہونے لگتی ہے۔ لیکن جب ہم پیر کی پوزیشن بدل لیں یا پیروں کو حرکت دیں تو یہ کیفیت صحیح ہو جاتی ہے۔ یہ سنسناہٹ اگر آپ کی غلط پوزیشن میں بیٹھنے کی وجہ سے ہورہی ہو اور پھر صحیح ہو جائے تو اس میں تشویش کی کوئی بات نہیں لیکن اگر یہ مستقل اس کیفیت میں رہے تواس کی سنگین وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اس کے لئے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

کسی مسلز کا عارضی طور پر دبنا:

یہ عام طور پر ایک ہی جگہ ایک ہی پوزیشن میں بیٹھنے سے ہو جاتا ہے، جسے ہم پیر سن ہونا بھی کہتے ہیں، یہ کوئی ایسی تشویش کی بات نہیں یہ ہر ایک کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں آپ پیر کو تھوڑی حرکت دیں یا پوزیشن بدلیں تو یہ کیفیت ٹھیک ہو جاتی ہے۔

ذیابیطس کے مریض:

ذیابیطس کے مریجوں میں یہ مرض عام ہوتا ہے کیونکہ بلڈ شوگر کی زیادہ یا کم سطح پیروں کے اعصاب کو نقصان پہنچاتی ہے، جس کی وجہ سے پیروں میں شدید درد، جلن، سنسناہٹ محسوس ہوتی رہتی ہے۔ اگرآپ ذیابیطس کے مریض نہیں ہیں لیکن یہ علامات آپ میں موجود ہیں تو فوراً اپنا شوگر کا ٹیسٹ کروائیں۔ یا پھر ڈاکٹر سے رابطہ کریں تاکہ مرض کی بروقت تشخیص ہو سکے۔

وٹامنز کی کمی:

اکثر وٹامنز کی کمی بھی یہ کیفیت پیدا کرنے کا باعث بنتی ہے۔ خاص کر وٹامن بی 12 کی کمی سے ہاتھ پیروں کی سنسناہٹ کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، یہ عام طور پر بڑی عمر کے افراد میں زیادہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کے جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی ہے تو تھکاوٹ، ہاتھوں اور پیروں میں سنسناہٹ ، ہاضمے کے مسائل وغیرہ کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اس کا حل یہی ہے کہ اپنے ڈاکتر سے پوچھ کرغذا میں وٹامن بی 12 والی غذاؤں یا سپیلمنٹس کا استعمال بڑھادیں۔

کمر کا پٹھا دب جانا:

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ آپ کی کمر سے پیروں تک جو پٹھا آرہا ہے وہ کسی وجہ سے دب جائے اور وہاں خون کی سرکولیشن صحیح نہ ہو رہی ہوتو بھی یہ مسئلہ درپیش ہوتا ہے اس کا پتہ لگانے کے لئے آپ کو ٹیسٹ کروانے پڑیں گے۔ اس کی علامات میں کمر کے نچلے حصے میں درد، ٹانگوں کا سن پن یا تکلیف کا احساس، مثانے کا کنٹرول ختم ہونا شامل ہیں۔ ایسی کوئی علامات ہوں تو اس کی وجہ یہ ہوسکتی ہے۔ اس کے لئے ڈاکٹرزادویات یا سرجری تجویز کرتے ہیں۔

کیمو تھراپی کے مریض:

اکثر کینسر کے مریضوں میں کیموتھراپی کی جاتی ہے جس میں خاصی تیز اثر ادویات دی جا تی ہیں۔ یہ ادویات کینسر کے خلیات کو ختم کرنے کے لئے دی جاتی ہیں ، لیکن یہ ادویات جسم کے دوسرے خلیات اور حصوں کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں جس کی وجہ سے عام طور پر دوسری بیماریاں سامنے آتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس کے مضر اثرات میں ہاتھ پیروں کی سنسناہٹ بھی پیدا ہو جاتی ہے۔

حمل کے دوران:

حمل میں اکثر بچے کے وزن کی وجہ سے ٹانگوں پر بوجھ زیادہ پڑتا ہے جس سے پیر بار بار سن ہوجاتے ہیں۔ یہ تکلیف بچے کی پیدائش کے بعد اکثر ختم ہو جاتی ہے لیکن اگر نہ ہو تو اس کی وجہ ماں کی کمزوری یا خون کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خون کی کمی بچے کے اوپر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اگر خون کی کمی کا مسئلہ ہو تو اس سے سوجن بھی ہو سکتی ہے یا سنسناہٹ کا وقفہ بڑھ سکتا ہے۔
اگر آپ کے ساتھ ان میں سے کوئی بھی مسئلہ ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ آپ کامسئلہ حل ہو سکے۔

By Afshan    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    783 Views    |    01 Jul 2022

Related Articles

Comments/Ask Question

Read Blog about کیا آپ کے پیروں میں بھی سوئیاں چبھتی ہیں یا ان میں سنسناہٹ کا احساس رہتا ہے؟ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find ( کیا آپ کے پیروں میں بھی سوئیاں چبھتی ہیں یا ان میں سنسناہٹ کا احساس رہتا ہے؟) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.