اکلوتے بیٹے کے انتقال کے بعد خود کو کمرے میں بند کر لیا ۔۔ سینئر اداکار مسعود اختر کو بیٹے کی موت نے کیسے مریض بنا دیا تھا؟

پاکستان کی پہچان لیجنڈری اداکار مسعود اختر اب اس دنیا میں نہیں رہے۔ ان کا انتقال 82 سال کی عمر میں پھیپھڑوں کے کینسر کی وجہ سے ہوا۔

اداکار مسعود اختر 5 ستمبر 1940ء کو ساہیوال میں پیدا ہوئے۔ 60 کی دہائی میں انہوں نے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا اور جلد ہی اسٹیج کے مشہور اداکاروں میں شمار ہونے لگے۔

پچھلے کچھ ماہ سے یہ شدید بیمار تھے اور کئی بار انہیں اسپتال میں طبعیت خراب ہونے پر داخل بھی کرویا گیا تھا۔ یہ ایک باہمت اور رعب دار شخصیت کے مالک تھے مگر بڑھاپے میں اپنے اکلوتے بیٹے کی موت نے انہیں توڑ کر رکھ دیا تھا۔آج سے 5 ماہ قبل جب انکے بیٹے علی رضا کی موت بھی پھیپھڑوں کے کینسر سے ہوئی تو وہ جیسے اسی وقت اندر سے ختم ہو گئے تھے کیونکہ ہمیشہ بیٹے کو یاد کرتے رہتے اور روتے رہتے تھے۔

اب وہ اس عمر میں پہنچ چکے تھے کہ انہیں جوان بیٹے کی مضبوط کاندھوں کی بہت ضرورت تھی مگر وہ دنیا میں نہیں رہا تو اس کی جدائی کے غم میں ہی انہوں نے اپنے آپ کو ایک کمرے میں بند کر لیا، کسی سے ملتے جلتے بھی نہیں تھے اور ڈپریشن کا شکار ہو چکے تھے۔

مزید یہ کہ بیٹے کے جنازے پر بھی انہیں دیکھا جا سکتا تھا کہ چل بھی خود صحیح طریقے سے نہیں سکتے تھے اور ان کے ہاتھوں میں چھڑی بھی تھی لیکن پھر بھی انہیں دونوں بازوؤں سے لوگ پکڑ کر لا رہے تھے۔ اس وقت یہ بہت کمزور اور بوڑھے بھی نظر آ رہے تھے۔

ہاں لیکن وہ معمول کے مطابق الحمرا آرٹس کونسل لاہور جاتے ضرور تھے مگر کچھ کام نہیں کرتے تھے وہاں بس اپنی پرانی یادوں کو تازہ کرتے تھے۔ انکا الحمرا آرٹس کونسل سے بہت لگاؤ تھا کیونکہ انہوں نے اس بنتے ہوئے دیکھا اور پھر اداکار قوی خان کے ساتھ اسٹیج ڈراموں کی اہمیت سے دنیا کو روشناس کروایا۔

یہی نہی بلکہ انہوں نے اسٹیج سے ہی اپنی پہچان بنائی، ان کے ابتدائی ڈراموں میں سے ایک پیسہ بولتا ہے 1970 کی دہائی میں الحمرا میں پیش کیا گیا تھا اور اس نے انہیں بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی تھی۔ اپنی زندگی میں انہوں نے 150 سے زائد فلمیں، ڈارمے اور لاتعداد اسٹیج ڈراموں میں کام کیا۔ ایک وقت تھا کہ انہوں نے کئی سال تک اسٹیج ڈارمیں لکھے اور وہ کافی مقبول بھی ہوئے۔

ٹی وی ڈراموں سے مقبولیت پانے والے فن کار مسعود اختر نے کئی فلموں میں ولن کی حیثیت سے کام کیا۔ فلم سنگدل میں ان کی اداکاری کو کافی سراہا گیا، ان کی فنی خدمات پر انہیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دیا گیا اور 14 اگست 2005ء کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی بھی عطا کیا تھا۔

>

آخر میں آپکو یہ بتاتے چلیں کہ نجی ٹی وی کے مطابق ان کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ مسعود کی طبیعت شدید خراب ہونے پر ان کو جمعے کے روز گنگا رام اسپتال میں داخل کروایا گیا تھا یہ کئی دنوں سے کھانا پینا چھوڑ چکے تھے۔ ان کی نمازِ جنازہ آج بعد نمازِ عصر لاہور کے گلشنِ راوی میں ادا کی جائے گی۔

By Faiq  |   In News  |   0 Comments   |   5247 Views   |   21 Nov 2022
Related Articles
VIEW MORE ARTICLES
Top Trending
VIEW MORE ARTICLES
Comments/Ask Question

Read Blog about اکلوتے بیٹے کے انتقال کے بعد خود کو کمرے میں بند کر لیا ۔۔ سینئر اداکار مسعود اختر کو بیٹے کی موت نے کیسے مریض بنا دیا تھا؟ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (اکلوتے بیٹے کے انتقال کے بعد خود کو کمرے میں بند کر لیا ۔۔ سینئر اداکار مسعود اختر کو بیٹے کی موت نے کیسے مریض بنا دیا تھا؟) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.