کیا آپ بھی گرمی کی شدت میں شدید گھبراہٹ محسوس کرتےہیں،اس شدید گرمی میں دل کے مریض ہوشیار رہیں

موسم کوئی بھی ہو اس کی شدت جسم میں مختلف تبدیلیاں لے کرآتی ہے، کبھی یہ تبدیلیاں مثبت ہوتی ہیں اورکبھی منفی۔ اورخاص کر امراضِ قلب کے مریضوں کے لئے یہ موسم خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ماہرین صحت کا اس سلسلے میں یہ کہنا ہے کہ صرف سخت سردیوں میں ہی امراضِ قلب کے مریضوں کو احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ سخت گرمیوں میں بھی ایسا ہو سکتا ہے اور گرم موسم دل کے افعال کو متاثر کرسکتا ہے۔
کینیڈین ماہرین نے یہ بھی خبردار کیا ہے کہ دنیا میں گرمی بڑھنے سے دل کی بیماریوں میں اضافے کا خطرہ بڑھ گیا ہے جبکہ غریب ملکوں میں رہنے والے بزرگ افراد ان سے زیادہ متاثر ہوں گے۔ یہ بات انہوں نے شدید گرمی اور بیماریوں میں تعلق کے حوالے سے مختلف مطالعات کا نئے سرے سے جائزہ لینے کے بعد دریافت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے دل کی بیماریوں میں اضافے کا معاملہ صرف گرمی کی شدید لہروں تک محدود نہیں بلکہ گرمیوں کے موسم میں اوسط درجہ حرارت بڑھنے سے بھی امراضِ قلب میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہ خطرہ ان افراد، بالخصوص بزرگوں کےلیے زیادہ ہے جو غریب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور جن کے پاس گرمی کی شدت سے بچنے کےلیے روم کولراورایئرکنڈیشنر جیسی سہولیات موجود نہیں۔

1۔ ایک تحقیق کے مطابق امراض قلب میں مبتلا لوگوں کے لیے کہر آلود، گرم اورسرد موسم خطرناک ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انسانی جسم کو بہت زیادہ ٹھنڈا اور بہت گرم نہیں رہنا چاہیے کیونکہ موسم کی یہ دونوں شدت دل کے عمل کو متاثر کرتی ہیں۔ اس تحقیق میں یہ بھی پتہ چلا کہ انسانی جسم کا درجہ حرارت جب زیادہ بڑھ جاتا ہے تو انسانی جسم کا پروٹین گرمی کی وجہ سے کام نہیں کر پاتا جبکہ جسم کو چلانے کے تمام کیمیائی عمل کو بھی یہی چلاتا ہے۔

2۔ جب گرمی زیادہ بڑھ جاتی ہے تو انسانی جسم دو طرح سے اس کو خارج کرتا ہے ایک شعاعوں کی صورت میں اور دوسرا پسینے کی صورت میں ۔اور یہ دونوں ہی صورتیں دل پر دباؤ میں اضافہ کرتی ہیں۔ جس سے دل کی دھڑکن تیز اور پمپنگ سخت ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ گرمی کی وجہ سے ہی بلڈ پریشر بھی بڑھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

3۔ گرمیوں میں دل دورانِ خون کوتیز کر دیتا ہے اور جسم کو اعتدال پر لانے کے لئے پسینہ خارج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں جسم سے سوڈیم، پوٹاشئیم، اور دوسرے اہم معدنیات نکل جاتے ہیں جو کہ مسلز اور اعصابی نظام کو چلانے لے لئے بہت ضروری ہیں۔ اور ان کے اخراج سے صورتحال تشویشناک ہو سکتی ہے۔

4۔ اسی لئے ماہرین صحت کا یہ کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کو گرمیوں کے دوران زیادہ گرمی میں پھرنے سے یا زیادہ گرمی میں کام کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ کیونکہ یہ ان کی صحت کے لئے رسک ثابت ہو سکتا ہے۔اسی لئے اپنے جسم کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے پانی کا استعمال بھی بڑھا دینا چاہیے۔ تاکہ جسم ٹھنڈا رہ سکے۔اس کے ساتھ ساتھ اپنے کھانے پینے کا بھی خیال رکھنا چاہیے، مرغن یا مرچ مصالحوں والے کھا نے یا تلی ہوئی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے۔ دال سبزی، پھل ، سلاد کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں ۔ ایسے پھل استعمال کریں جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو، جیسے تربوز، خربوزہ، سردا، گرما، وغیرہ سبزیوں میں بھی کھیرا، ککڑی، گھیا، توری، لوکی وغیرہ کھانے سے دل کی گھبراہٹ اور گرمی کم ہو تی ہے۔ یہ پھل اور سبزیاں دل کو سکون پہنچاتی ہیں اور مقوی قلب بھی ہیں۔

5۔ گرمی میں امراض قلب میں مبتلا افراد کو زیادہ محنت کے کاموں سے اجتناب کرنا چاہیے، جس میں سیڑھیاں اترنا چڑھنا یا جم جانا یا زیادہ بھاگ دوڑ والے کام جس سے جسم میں مزید گرمی بڑھ جائے اس سے گریز کرنا چاہیے۔ پانی اورفریش جوسز کا استعمال بڑھا دینے سے پانی کی وہ کمی جو کہ پسینے کے اخراج کی صورت میں جسم میں ہو سکتی ہے وہ نہیں ہو گی۔ گرمی کے موسم میں چائے کافی وغیرہ کم سے کم استعمال کریں، کولڈ ڈرنک یا الکوحل کے استعمال سے بھی حتی الامکان بچیں۔ یہ بھی آپ کے دل کی کارکردگی کو متاثر کرتا ہے۔

By Afshan    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    571 Views    |    17 May 2022

Related Articles

Comments/Ask Question

Read Blog about کیا آپ بھی گرمی کی شدت میں شدید گھبراہٹ محسوس کرتےہیں،اس شدید گرمی میں دل کے مریض ہوشیار رہیں and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (کیا آپ بھی گرمی کی شدت میں شدید گھبراہٹ محسوس کرتےہیں،اس شدید گرمی میں دل کے مریض ہوشیار رہیں) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.