100 سال بعد قبر ملی وہ بھی ٹوٹی ہوئی ۔۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر موت سے پہلے کس تکلیف میں مبتلا ہو کر چل بسے؟

تاریخ کی مشہور شخصیات تو سب ہی کی توجہ حاصل کر لیتی ہیں، تاہم کچھ ایسی ہوتی ہیں، جن کا آخری وقت بھی تکلیف دہ ہوتا ہے۔مغل سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر تھے، جن کا یہ شعر "کتنا بد نصیب ہے ظفر دفن کے لیے،دو گز بھی زمین نہ ملی کوئے یار میں" کافی مشہور ہے۔ دراصل یہ صرف شعر نہیں ہے بلکہ آپ بیتی ہے جو انہوں نے شعر کی صورت میں سنائی ہے۔

بہادر شاہ ظفر کا شمار مغلیہ سلطنت کے ان بادشاہوں میں ہوتا تھا جو کہ ہندو مسلم تفریق سے بالاتر ہو کر باشاہت کر رہے تھے جس کی وجہ رعایا انہیں پسند کرتی تھی۔ جبکہ ایک ایسا طبقہ بھی تھا جو کہ ان پر تنقید کرتا تھا۔

1837 میں بہادر شاہ ظفر کی سلطنت سکڑ کر صرف دہلی تک رہ گئی تھی، یوں اس طرح اثر و رسوخ کم ہوتا اور انگریزوں کے حاوی ہونے سے بادشاہ کا حوصلہ پست ہوتا جا رہا تھا۔

اگرچہ بہادر شاہ ظفر کے پاس وہ حکومت نہیں تھی جو پچھلے دوروں میں بادشاہوں کے پاس تھی مگر 1857 کی جنگ آزادی میں انہی کی پکار پر انگریزوں کے خلاف بغاوت کی گئی تھی۔ اسی جنگ کے بعد بہادر شاہ ظفر پر بغاوت اور غداری کا مقدمہ چلایا گیا، انہیں جلا وطن کر کے برما میں قید کر دیا گیا تھا۔

وہ اس حد تک تنہائی اور افسردگی کے عالم میں تھے کہ ان کی شاعری آج ابھی ان کی تکلیف کو بیان کرتی ہے۔ ایک طرح سے شکوہ بھی کرتے تھے کہ میں کس حد تک بدنصیب ہوںں جو میرے ہی شہر میں مجھے دو گز زمین بھی میسر نہ آئی۔

ان کے آخری لمحات میں بھی شاہی خاندان کے کچھ افراد موجود تھے۔ چونکہ وہ ایک ایسے مقام پر تھے جہاں ان کے چاہنے والے اور ہمدرد سوچ بھی نہیں سکتے تھے، یہی وجہ تھی کہ ان کی وفات کی خبر بھی ہندوستان میں دو ہفتے بعد آئی تھی۔

انگریز تیار تھے کہ کب ان کا انتقال ہو اور انہیں آخری آرام گاہ کی طرف لے جایا جائے۔ 7 نومبر 1887 کو جب آخری مغل بادشاہ کا انتقال ہوا تو انہیں برطانوی فوج نے اسی دن دفنا دیا تھا، یہاں تک کے قبر کا قتبہ یا نام تک نہیں لکھا گیا تھا کیونکہ انہیں ڈر تھا کہ اس کی وجہ سے ان کے چاہنے والے بغاوت کر سکتے ہیں۔

میانمار کے شہر رنگون میں بہادر شاہ ظفر کو دفنایا گیا تھا، جہاں اچانک 1991 میں جب مزدور نالی کی کھدائی کر رہے تھے تب ہی انہیں ایک چبوترے کی اینٹیں دکھائی دیں۔ جسے دیکھ کر سب حیران رہ گئے۔ اس وقت انکشاف ہوا کہ یہ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کا مقبرہ ہے۔

اس مقبرے کو دیگر بادشاہوں کی طرح تیار نہیں کیا گیا ہے بلکہ ایک چھوٹا سا چار دیواری میں بنا ہوا مقبرہ ہے جو کہ چندوں سے چل رہا ہے۔

نچلی منزل پر ان کی ملکہ زینت محل اور پوتی رونق زمانی کی قبر ہے۔بہادر شاہ ظفر کی قبر گلاب کی پتیوں میں ڈھکی ہوئی ہے´۔بہادر شاہ ظفر کی قبر گلاب کی پتیوں سے ڈھکی ہوئی ہے۔ اس کے اوپر ایک لمبا فانوس لٹکا ہے، اور دیواروں پر تصاویر آویزاں ہیں۔ ساتھ ہی ایک مسجد ہے۔یہ مقبرہ درگاہ کا درجہ اختیار کر گیا ہے اور یہاں رنگون کے مسلمان حاضری دیتے ہیں۔

Bahadur Shah Zafar Ki Qabar

Discover a variety of News articles on our page, including topics like Bahadur Shah Zafar Ki Qabar and other health issues. Get detailed insights and practical tips for Bahadur Shah Zafar Ki Qabar to help you on your journey to a healthier life. Our easy-to-read content keeps you informed and empowered as you work towards a better lifestyle.

By Fahad  |   In News  |   0 Comments   |   3283 Views   |   29 Sep 2022
About the Author:

Fahad is a content writer with expertise in publishing news articles with strong academic background. Fahad is dedicated content writer for news and featured content especially food recipes, daily life tips & tricks related topics and currently employed as content writer at kfoods.com.

Related Articles
Top Trending
COMMENTS | ASK QUESTION (Last Updated: 22 April 2024)

100 سال بعد قبر ملی وہ بھی ٹوٹی ہوئی ۔۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر موت سے پہلے کس تکلیف میں مبتلا ہو کر چل بسے؟

100 سال بعد قبر ملی وہ بھی ٹوٹی ہوئی ۔۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر موت سے پہلے کس تکلیف میں مبتلا ہو کر چل بسے؟ ہر کسی کے لیے جاننا ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک اہم معلومات ہے۔ 100 سال بعد قبر ملی وہ بھی ٹوٹی ہوئی ۔۔ آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر موت سے پہلے کس تکلیف میں مبتلا ہو کر چل بسے؟ سے متعلق تفصیلی معلومات آپ کو اس آرٹیکل میں بآسانی مل جائے گی۔ ہمارے پیج پر کھانوں، مصالحوں، ادویات، بیماریوں، فیشن، سیلیبریٹیز، ٹپس اینڈ ٹرکس، ہربلسٹ اور مشہور شیف کی بتائی ہوئی ہر قسم کی ٹپ دستیاب ہے۔ مزید لائف ٹپس، صحت، قدرتی اجزاء اور ماڈرن ریمیڈی کے فوڈز میں موجود ہے۔