سردیوں میں دیسی گھی کھانے سے کیا ہوتا ہے؟ جانیئے دیسی گھی استعمال کرنے کے فوائد اور اسے گھر میں بنانے کا آسان طریقہ

پُرانے زمانے میں اگر صبح کا آغاز دیسی گھی سے بنے پراٹھوں سے نہ ہو تو صبح ہی ادھوری محسوس ہوتی تھی لیکن جیسے جیسے لوگ روزمرہ کے مسائل میں مصروف ہوتے جا رہے ہیں ان کی ترجیحات بھی بدل گئی ہیں اور دیسی گھی سے لوگ بناسپتی گھی کی طرف آ گئے ہیں۔
لیکن دیسی گھی کا استعمال کتنا مفید ہے اگر اس سے لوگ آگاہ ہو جائیں تو آج ہی سے اس کا استعمال شروع کر دیں گے، جبکہ اگر دیسی گھی کا استعمال سردیوں میں کیا جائے تو اس کی افادیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔

سردیوں میں دیسی گھی استعمال کرنے سے کیا ہوتا ہے؟

نیشنل ڈیری ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے انڈین جنرل آف میڈیکل ریسرچ میں شائع کردہ ایک رپورٹ میں گائے کے دودھ سے بنائے گئے مکھن سے حاصل ہونے والے گھی کو کینسر سے بچاﺅ میں بھی مدد گار اور مفید قرار دیا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ خصوصاً موسم سرما میں روزانہ ایک چمچ دیسی گھی کو اپنی خوراک کا حصہ ضرور بنائیں۔
سردی میں دیسی گھی کا ایک چمچ روزانہ استعمال کرنے سے کیا فوائد حاصل ہوسکتے ہیں آیئے آپ کو بتاتے ہیں۔

• دیسی گھی استعمال کرنے کے فوائد

• جلد کے لئے مفید

ماہرین کے مطابق سردی کے موسم میں دیسی گھی کا استعمال جلد کی خشکی سے نجات دلاتا ہے، اس سے بےجان جلد نرم و ملائم چمکدار اور چکنی ہو جاتی ہے۔

• بالوں کے لئے مفید

آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ اگر دیسی گھی بالوں میں لگایا جائے تو اس سے بالوں کی نشونما میں اضافہ ہوتا ہے، خصوصاً اسے پگھلا کر بالوں میں تیل کے طور پر لگانے سے ناصرف سر کی جلد کی خشکی دور ہوجاتی ہے بلکہ بال بھی چمکدار اور مضبوط ہوجاتے ہیں۔

• آنکھوں کے لئے مفید

دیسی گھی میں وٹامن اے کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ آنکھوں کی بینائی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے یہی نہیں بلکہ موبائل فون اور کمپیوٹر زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے آنکھوں پر پڑنے والے دباﺅ کا بھی بہترین علاج ہے اور خصوصاً آنکھوں کی بیماری گلاکوما میں فائدہ بخش ہے۔

• جوڑوں کے لئے مفید

دیسی گھی کے ایک نہیں ڈھیروں فوائد ہیں، جو لوگ جوڑوں کے درد کا شکار ہیں وہ دیسی گھی کا استعمال کریں تو درد میں آرام آئے گا، دیسی گھی جوڑوں کو صحت مند رکھتا ہے اور خصوصاً سردیوں میں جوڑوں کے درد کے شکار افراد کے لئے بہت مفید ہے۔

• بیماریوں سے بچائے

کھانا پکانے میں عام استعمال ہونے والے تیل میں بلند درجہ حرارت پر فری ریڈیکل ہوتے ہیں جو بیماریوں کو مدعو کرتے ہیں اس کے مقابلے میں دیسی گھی میں بنے پکوان صحت کے لئے فائدے مند ہوتے ہیں دیسی گھی میں مستحکم سیچوریٹڈ بانڈ پر مشتمل چکنائی ہوتی ہے جس کی وجہ سے فری ریڈیکل بہت کم بنتے ہیں اس ہی لئے عام تیل کے مقابلے دیسی گھی میں بنے پراٹھے اور پکوان زیادہ مفید اور صحت بخش ہوتے ہیں۔

• دماغی صحت کے لئے مفید

دیسی گھی غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے اس کے استعمال سے یادداشت تیز ہوتی ہے دماغی صحت برقرار رہتی ہے اور یہ ناصرف دماغ کے خلیوں کو صحت مند رکھتا ہے بلکہ حافظے کو مضبوط بناتا ہے۔

• گھر میں دیسی گھی بنانے کا طریقہ

• دودھ کی بالائی سے مکھن تیار کریں

سب سے پہلے جو نارمل دودھ گھر میں آتا ہے اس پر جو بالائی جمع ہوتی ہے اس کو ایک کپ یا پھر کسی برتن میں روزانہ جمع کرتے رہیں جب ایک کپ مکمل ہوجائے تو اس میں ایک کھانے کا چمچ دہی ملا کر اس بالائی کا دہی جمع لیں۔ جب دہی تیار ہو جائے تو اس کو بلینڈر میں ڈال کر اس میں ٹھنڈا یخ پانی شامل کر کے اس کی لسی بنا لیں اسے ٹھنڈا یخ کرنے کے لئے برف کا استعمال بھی کیا جا سکتا ہے جیسے جیسے لسی بنتی جائیگی مکھن اوپر جمع ہوتا رہے گا۔

• بنائے گئے مکھن سے گھی نکالیں

ایک برتن میں یا فرائی پین میں مکھن ڈال کر ہلکی آنچ پر پکنے دیں، جب مکھن پگھلنا شروع ہو جائے گا تو گھی بننا شروع ہو جائے گا۔ جب مکھن مکمل پگھل جائے اور گھی کی شکل اختیار کر جائے تو مکھن سے نکلنے والا پانی خشک ہونے تک اسے پکائیں، اب اسے چھان کر کسی بوتل میں بھر کر رکھ لیں مزیدار اصلی گھی تیار ہے۔

By Sadia    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    2026 Views    |    18 Nov 2021

Comments/Ask Question

Read Blog about سردیوں میں دیسی گھی کھانے سے کیا ہوتا ہے؟ جانیئے دیسی گھی استعمال کرنے کے فوائد اور اسے گھر میں بنانے کا آسان طریقہ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (سردیوں میں دیسی گھی کھانے سے کیا ہوتا ہے؟ جانیئے دیسی گھی استعمال کرنے کے فوائد اور اسے گھر میں بنانے کا آسان طریقہ) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.