ڈینگی کے مریضوں کے لیے پپیتے کے پتوں کا عرق فائدہ کرتا ہے یا پھر نقصان؟ طبی ماہرین نے شہریوں کو خبردار کر دیا

ڈینگی ایک خطرناک اور جان لیوا مرض ہے جس کا اگر وقت پر علاج نہ کروایا جائے تو بھاری نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے مختلف شہروں میں ڈینگی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ شہری اپنی حفاظت خود نہیں کر رہے ہیں اور اسپتال میں ڈینگی کے مریضوں میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

وہیں ڈینگی کے بخار کا علاج پپیتے کے پتوں کا عرق بطور تجویز پیش کیا جاتا ہے کہ اس کا عرق ڈینگی وائرس میں مبتلا افراد کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ لیکن طبی ماہرین نے پپیتے کے پتوں کا عرق مریضوں کے لیے انتہائی خطرناک اور جان لیوا قرار دے دیا ہے۔ وہ کیسے آیئے آپ کو بتاتے ہیں۔

ڈاکٹرز کے مطابق پپیتے کے پتوں میں ڈینگی کے مرض کا کوئی علاج موجود ہی نہیں ہے۔ اس طرح کے ٹوٹکوں سے گریز کیا جائے۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ پپیتے کے پتوں کے عرق سے پلیٹلیٹس کی تعداد میں اضافے کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ملتا، بلکہ اس سے سخت ڈائریا کا خدشہ لاحق ہوسکتا ہے جو زیادہ سیریس حالت کے مریضوں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کے مطابق پپیتے کے پتوں کے رس کا ڈینگی بخار کے علاج میں کوئی کردار نہیں۔
طبی ماہرین اس حوالے سے یہی کہتے دکھائی دے رہے ہیں کہ ڈینگی کی بیماری پرانی ہوچکی ہے اور اب ڈاکٹرز کے پاس اس کا جدید طرز کا علاج موجود ہے۔ اس طرح کے اپنے بنائے گئے ٹوٹکوں سے گریز کیا جائے تاکہ کسی کی جان خطرے میں پڑنے سے بچ جائے۔

By zain  |   In Health and Fitness  |   0 Comments   |   596 Views   |   13 Sep 2022
Related Articles
Top Trending
Comments/Ask Question

Read Blog about ڈینگی کے مریضوں کے لیے پپیتے کے پتوں کا عرق فائدہ کرتا ہے یا پھر نقصان؟ طبی ماہرین نے شہریوں کو خبردار کر دیا and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (ڈینگی کے مریضوں کے لیے پپیتے کے پتوں کا عرق فائدہ کرتا ہے یا پھر نقصان؟ طبی ماہرین نے شہریوں کو خبردار کر دیا) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.