ڈینگی بخار کی علامات اور آسان قدرتی علاج

پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں ڈینگی ایک وبائ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے یہ وائرس ایڈیس نامی مچھر کے کاٹنے سے پھیلتا ہے یا متاثرہ شخص کو کاٹنے سے مچھر میں یہ وائرس منتقل ہوجاتا ہے اور ایسا مچھر جب بھی کسی کو اپنا شکاربناتا یہ وائرس آسانی سے اس میں منتقل ہوجاتا ہے اسی لیے یہ بہت تیزی سے پھیلنے والا وائرس ہے۔ دنیا بھرمیں ہرسال ٹقریباً 40 کروڑافراد اس کا شکار ہوتے ہیں اورتقریباً 96 فیصد میں وائرس انفیکشن کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
یہ مچھرصاف پانی میں پلتا ہے اور کسی بھی وقت نشانہ بنا سکتا ہے مگر صبح اور شام کا وقت اس کے لیے سب سے موزوں وقت ہوتا ہے۔ اس کی علامات وائرس کے جسم میں داخل ہونے کے تقریباٍ 4 سے 6 دن یا کبھی کبھار 10 کے اندر ظاہر ہونا شروع ہوجاتی ہیں۔ اس کی علامات میں اچانک تیز بخارہوجانا، شدید سردرد، انکھوں کے پیچھے، جوڑوں اور پٹھوں میں درد، تھکاوٹ، متلی و قے اوران علامات کے 5 دن کے بعد جلد پرریشیزاور بیماری کی شدت کی صورت میں جسم کے مختلف حصوں سے خون بہنا جیسے ناک اورمسوڑھوں وغیرہ شامل ہیں۔

بعض موقعوں پران علامات کی شدت کم ہونے پراسے فلو یا دوسرا وائرل انفیکشن سمجھاجاتا ہے۔ چھوٹے بچے یا جنہیں یہ وائرس پہلی باراپنا نشانہ بناتا یا جن کا مدافعتی نظام مضوط ہوتو ان میں کبھی کبھاراس کی علامات کم شدت کی ہوتی ہیں بہ نسبت بڑوں اور بزرگوں کے تاہم یہ کسی بھی وقت سنگین نوعیت اختیار کرسکتا ہے جیسے ڈینگی ہیمریجک بخاریہ اس وائرس کی ایک پیچیدہ اور مہلک صورت ہے جس میں تیز بخار، خون کی وریدوں کو نقصان پہنچنا، ناک اور مسوڑھوں سے خون بہنا، جگر کا بڑھنا اور نظام تنفس میں خلل پیدا ہونا شامل ہے اسے ڈٰینگی شاک سینڈروم یعنی DSS)) کہاجاتا ہے۔ ایسے افراد جن کامدافعتی نظام کمزورہو یا پھر جنہیں پہلے ڈینگی ہوچکا ہے ان میں ڈینگی ہیمریجک فیور ہونے کا خطرہ کئی گناہ بڑھ جاتا ہے۔
ڈینگی کی تشخیص خون کے ٹیسٹ سے کی جاتی ہے، تاہم ابھی تک اس کی کوئی ویکسین تیارنہیں کی جاسکی، اور نہ ہی کوئی دوا، اگر کسی علاقے میں ڈینگی کے مریض موجود ہے تو بخارکی صورت میں صرف پیناڈول استعمال کی جائے اوراسپرین سمیت کسی بھی دواسے پرہیز کیا جائے کیونکہ اس طرح یہ وائرس سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔ بیماری کی صورت میں ڈاکٹرکی ہدایات پرعمل کریں اور ساتھ آرام، پانی اور دوسرے صحت بخش مشروبات کا استعمال کریں اگر بخاراترنے کے ابتدائی 24 گھنٹوں کے بعد بہت زیادہ کمزوری محسوس ہوتو فوراً ہسپتال کا رخ کریں تاکہ کسی بھی پیچیدگی کا پتا لگایا جا سکے۔
اس وائرس کے بچنے کا واحد حل مچھر کے کاٹنے سے بچنا ہے خصوصیت کے ساتھ ایسی جگہ جہاں یہ وائرس موجود ہو۔
مچھر سے بچائو کے لیے لکویڈ استعمال کریں، گھرمیں اورگھر سے باہرہلکے و پوری استین کے کپڑے پہنیں، کھڑکیوں اور دروازوں پر جالیوں کے پردے لگائیں۔ ڈینگی کی علامات ظاہر ہونے پر فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
یہ مچھر صاف پانی میں پلتا ہے تو ایسی جگہ جہاں پانی جمع ہو جیسے پرانے ٹائروں، پودوں کے گملوں ان میں پانی جمع نہ ہونے دیں، کسی بھی جگہ پر پانی کھڑا نہ ہونے دیں، پانی کی ٹنکیوں اورگھر میں بالٹیوں کو خا لی رکھیں یا پانی ہونے کی صورت میں کسی ڈھکن یا کپڑے سے ڈھانپ دیں، پرندوں کے لیے رکھے جانے والے برتنوں میں پانی کو روزتبدیل کریں۔ اورمتاثرہ علاقے میں مچھر مار اسپرے کریں تاکہ اس وائرس پر قابوپایا جا سکے۔

By Hina    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    1782 Views    |    04 Nov 2021

Related Articles

Comments/Ask Question

Read Blog about ڈینگی بخار کی علامات اور آسان قدرتی علاج and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (ڈینگی بخار کی علامات اور آسان قدرتی علاج) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.