کیا آپ جانتے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھا کھانا صحت کے لئے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟

اس بات کو سب ہی تسلیم کریں گے ان کو میٹھی چیزیں پسند ہیں۔تاہم غذائی ماہرین ہمیشہ سے چینی کے کم استعمال پر زور دیتے ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ چینی صرف کیلوریز حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اس میں کو ئی غذائیت نہیں ہے۔اس کا جسم میں دیگر غذا کی طرح کوئی کام نہیں ہے یہ چربی کے خلیوں میں جمع ہو کروزن بڑھنے کا باعث بنتی ہے۔کھانے کے بعد میٹھا کھانا ایک عام عمل ہے دیکھا جائے تو کوئی نقصان نہیں ہے لیکن کسی بھی چیز کی زیادتی اور مستقل ہونا ضرور نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔ہم جس معاشرے میں رہتے بچپن سے دیکھتے آئیں ہیں کسی بھی دعوت میں میٹھا ہمیشہ نمکین کے بعد پیش کیاجاتا ہے یعنی کسی بھی کھانے کا اختتام میٹھے پر کیا جاتا ہے اسی لئے ہمیں ہر کھانے کے بعد کچھ میٹھے کی طلب ہوتی ہے غذائی ماہرین کا اس ضمن میں کہنا ہے کہ کھانے کے بعد جسم کا بنیادی کام کھانے کو ہضم کرنا ہے اور اس کے لئے کافی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے چینی فوری توانائی حاصل کرنے کا ذریعہ ثابت ہوتی ہے،اسی لئے ہر کھانے کے بعد میٹھے کی خواہش بیدار ہوجاتی ہے۔اس کے علاوہ بھی کچھ اور وجہ ہیں جانتے ہیں کہ وہ کیا ہیں۔

نفسیاتی وجوہات

اکثر معاملات میں میٹھے کی طلب جسمانی سے زیادہ نفسیاتی ہوتی ہے یعنی یہ خواہش آپ کے کھانے کو میٹھے سے ختم کرنے کی عادت سے پیدا ہوتی ہے،چینی اور چکنائی سے بھر پور غذا کا باقاعدہ استعمال دماغ میں ایک مخصوص کیمیکل وائرنگ کا باعث بنتا ہے جو خودبخود اس طرح کے کھانوں کی خواہش کو جگا دیتا ہے،اگر آپ نے ہمیشہ کھانے کے اختتا م کو میٹھی چیز سے جوڑا ہے اور کبھی اس سے انحراف کرنا بھی چاہیں تو یہ مشکل ہوگا۔جبکہ اس کی ایک و یہ بھی جہ ہے کہ جب آپ کھانا کھاتے ہی تو یہ آپ کے مزاج کو بہتری کی طرف لے جاتا ہے اور یہ میٹھے کھانے سے مزید بڑھتا ہے،کیونکہ آپ کا دماغ ایک کیمیکل خارج کرتا ہے جسے سیروٹونن کہا جاتاہے۔جو آپ کو خوش اور پر سکون رکھتا ہے، یعنی میٹھا کھا کر مزاج خوشگوار ہو جاتا ہے۔

کاربوہائیڈریٹ سے بھر پور کھانا

اگر آپ کا کھانا کاربوہائیڈریٹ سے بھرا ہوا ہے اور ایسی بات نہیں یہ کہ صحت کے حوالے سے غلط ہے لیکن یہ کھانے کے بعد میٹھے کی طلب بڑھا تاہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ کاربویائیڈریٹ غذا میں شامل رکھنے سے خون میں چینی کی سطح بلند ہو جائے گی اور پھر آپ کو میٹھا کھانے کی طلب بڑھے گی۔

زیادہ نمک والے کھانے

جن کھانوں میں نمک کی مقدار زیادہ ہو تو جسم عام طور پر توازن پیدا کرنے کے لئے میٹھے کھانے کی خواہش رکھتا ہے،آپ نے کبھی سوچا کہ پیزا،برگر اور فرائز کے ساتھ سوفٹ ڈرنک پینا کیو ں چاہتے ہیں؟وجہ یہی ہو سکتی ہے۔

پانی کی کمی

ایک اور اہم وجہ میٹھے کی طلب کا ہونا وہ ہے خراب ہاضمہ جو کہ پانی کی کمی سے مشروط ہے۔جب آپ کھانا کھاتے ہیں تو اور اس کے بعد پانی نہیں ہوتا ہے تو کھانا مناسب طریقے سے ہضم نہیں ہو پاتاتو آپ میں میٹھے کی خواہش بڑھتی ہے۔

اس طلب کو کیسے کم کیا جائے

چینی کو مکمل طور پر غذا سے ختم نہ کریں،کھانے کے بعد میٹھا کھانا قدرتی عمل ہے اس لئے اپنی ذات پر جبر نہ کریں،آپ اپنے پسندیدہ میٹھے سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں مگر تھوڑی مقدار لیں۔اور میٹھے کے لئے چینی کے بجائے پھلوں،خشک میوہ جات اور شہد کو اپنی غذا کا حصہ بنائیں،یہ میٹھے کی طلب کی تسکین کے ساتھ آپ کو صحت بھی فراہم کریں گے۔
اپنے کھانے میں متوازن غذا کو شامل کریں بہت زیادہ کاربوہائیڈریٹ کی جگہ فائبر کو شامل کریں تاکہ خون میں چینی کی سطح مستحکم رہے۔زیادہ نمک والے کھانوں سے پر ہیز کریں۔
اس طلب کو کم کرنے کے لئے کھانے کے بعد دانت برش کرنا بھی فائدہ مند ہے،شوگر فری چیونگم لینابھی افاقہ دے گی۔ کہاجا تا ہے کہ اگر ناشتہ میں کچھ میٹھا کھا لیا جائے تو وہ دن بھر میٹھے کی خواہش کو بڑھنے نہیں دیتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ دماغ میں موڈ کو بہتر کرنے والا سیروٹونن دن کے آغاز اپنی بلند ترین سطح پر ہوتا ہے اور میٹھے کی طلب کم ہوتی ہے آپ دن کے آغاز میں میٹھا کھا کر اسے مزید تسکین فراہم کر دیتے ہیں۔
یاد رکھیں اگر کوئی بھی غذا اعتدال میں ہو تو اس کا کچھ نقصان نہیں ہوتا۔

By Hina Yousuf    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    998 Views    |    27 Oct 2021

Comments/Ask Question

Read Blog about کیا آپ جانتے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھا کھانا صحت کے لئے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (کیا آپ جانتے ہیں کہ کھانے کے بعد میٹھا کھانا صحت کے لئے فائدہ مند ہے یا نقصان دہ؟) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.