کیا آپ کے بچے کو بھی سب موٹا موٹا کہہ کر چھیڑتے ہیں، اپنے بچے کو موٹا نہیں صحت مند رکھیں اسے متوازن غذا کا عادی بنانے کی کچھ ٹپس

اپنے اردگرد آپ نے اکثر ایسی خواتین دیکھی ہوں گی جو ہر وقت بچے کے کھلانے پلانے کے پیچھے پڑی رہتی ہیں، ان کی زندگی کا واحد مقصد بس اپنے بچے کوکھلانا بلکہ ٹھنسانا ہوتا ہے۔ یعنی بعض خواتین تو حقیقتاً بچے کے منہ میں کھانا ٹھونس رہی ہوتی ہیں۔ لیکن کیا آپ اپنے بچے کو صحت کی طرف لے جارہی ہیں یا بیماریوں کی طرف۔ بچے کا موٹاپا اس کی صحت کی علامت نہیں ہے بلکہ یہ اس کی بیماریوں کی طرف پہلا قدم ہے۔ کیونکہ یہی موٹاپا بڑے ہو کر بیماریوں کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ اس لئے بچے کو کم کھلائیں اچھا کھلائیں، یا ایسا کھلائیں کہ وہ کم بھی کھائے تو اس میں دیر تک توانائی موجود رہے۔

1۔ شروع سے بچے کو پھل اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالیں، تاکہ آگے جاکر آپ کے لئے پریشانی کا باعث نہ بنے۔ کیونکہ اس وقت زیادہ تر ماؤں کی شکایت یہ ہوتی ہے کہ بچہ سبزیاں نہیں کھاتا ،پھل نہیں کھاتا۔ اس کو شروع سے جنک فوڈ یا فرائڈ آئٹم کا عادی نہ بنائیں بلکہ سادہ کھانا بھی کھانے کی عادت ڈالیں۔ ورنہ یہی بچہ آگے چل کر آپ کوتگنی کا ناچ نچا دے گا۔ شروع سے ہی بچے کو وقت پر کھانے کی عادت ڈالیں، کوشش کریں کہ سب کے ساتھ بیٹھ کر کھائے، ایک دوسرے کو دیکھ کر بھی بچے شوق میں کھا لیتے ہیں۔ انڈے، دودھ ، مچھلی، مرغی، گائے ، بکرا، ہر چیز کا ذائقہ ان کو چکھائیں تاکہ وہ اس کو پہچانیں اور کھانے کے عادی بنیں۔ اس کے ساتھ موسم کا ہر پھل ان کو کھلائیں، اللہ نے ہرموسم کے پھل میں کوئی نہ کوئی فائدہ ، کوئی نہ کوئی خاصیت رکھی ہے، اس لئے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ موسم کا ہر پھل خود بھی کھائیں اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ کھلائیں، اگر بچے پھل کھانے میں کوئی مسئلہ کرتے ہیں تو اس کا شیک یا جوس بنا کر دے دیں یا اس کی اسموتھی وغیرہ بنا لیں۔

2۔ بچوں کو شروع سے ایکسرسائز یا جسمانی سرگرمیوں کا عادی بنائیں۔ اس وقت ہربچہ موبائل فون میں گم ہے، جسمانی سرگرمیاں نہ ہونے کے برابرہیں، جس کی وجہ سے موٹاپے کی بیماری بڑھتی جا رہی ہے۔ مائیں یہ سوچتی ہیں کہ بچے کو بھاگ دوڑ سے روک کر موبائل دے کر ایک طرف بٹھا دیا جائے تو گھر میں سکون ہو جاتا ہے گھر پھیلتا نہیں ہے، شورشرابا کم ہو تا ہے اور بچہ گھنٹوں موبائل میں گیم کھیلتا رہتا ہے یا کارٹونز دیکھتا رہتا ہے جس سے آنکھیں بھی خراب اور ذہن بھی خراب۔ بچوں کو جسمانی سرگرمیوں میں لگائیں تاکہ ان کا جسم کھلے، ان کا جسم محنت کا عادی بنے ، کھانا ہضم ہو، بھوک لگے، اور ان کا دماغ تیز ہو۔ بچوں کو ہر قسم کا گوشت بھی کھانے کی عادت ڈالیں جیسے گائے کا ، مچھلی کا، بکرے کا، مرغی کا گوشت ، ہر گوشت میں علیحدہ غذائیت اور علیحدہ خاصیت ہے۔ یہ پروٹین اور آئرن کا خزانہ ہے۔ جو بچوں کی نشونما کے لئے بنیادی چیز ہے۔

3۔ بچوں کو غذائی اشیاء بدل بدل کردیں، تاکہ ان کو ہر طرح کے وٹامن میسر ہوں ۔ یہ کوشش رہے کہ بچوں کو بچپن سے کھانے پینے کی عادت ڈالیں اوربدل بدل کر کھانے کی چیزیں دیں تاکہ ان میں سب چیزیں کھانے کی عادت ہو اور یہ نہ کہیں کہ فلاں چیز انہیں اچھی نہیں لگتی۔ چھوٹے بچوں کے کھانے کے برتن مختلف شیپس یا مختلف رنگوں اور ڈیزائنز کے لے لیں تو بچہ آسانی سے ان کی طرف متوجہ ہو جائے گا۔ بچوں کو کھانے کے دوران ٹی وی یا موبائل میں مصروف نہ کریں بلکہ کھانے کے دوران ان کو مختلف کہانیاں سنائیں ان سے چھوٹی چھوٹی باتیں کریں، مختلف چیزیں سکھائیں، ان چیزوں میں لگ کر وہ کھانا بھی شوق سے کھا لیں گے اور مختلف چیزیں بھی سیکھ جائیں گے۔

4۔ بچوں کو مختلف دالوں سے بھی روشناس کروائیں ۔ دال چاول بچوں کے لئے صحت مند اور سادہ غذا ہے۔ گوشت کے ساتھ ساتھ بچہ دالوں اورسبزیاں کھانے کا عادی بھی ہونا چاہیے۔ تاکہ اس سے اس کوآئرن، کیلشئیم، وٹامنز، منرلز، پروٹینز بھی ملتے رہیں۔ کولڈ ڈرنکس کی عادت نہ ڈالیں تو بہت بہتر ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہم سب کولڈ ڈرنکس کے خود بھی اتنے عادی ہو گئے ہیں کہ بچوں کو کیسے منع کرسکتے ہیں۔

5۔ اسکول جانے والے بچوں کو خاص کرغذائیت کی زیادہ ضرورت ہو تی ہے، یہ بڑھتی ہوئی عمر ہے، چار سے آٹھ سال کے دوران بچوں کی نشوونما تیزی سےہوتی ہے اس لئے اس دوران بچوں کو غذائیت سے بھرپورغذا دینا بہت ضروری ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے بچوں کو صبح اٹھ کر ناشتہ کرنے کی عادت نہیں ہوتی جو کہ بہت خراب عادت ہے اس کی وجہ سے بچے میں وٹامن بی کی کمی ہو سکتی ہے، اس کے علاوہ ناشتہ نہ کرنے سے باقی کا پورا دن سستی اور کمزوری میں گذرتا ہے ۔ اسی لئے ناشتے کی عادت سب سے اچھی اور ضروری عادت ہے اس کے ساتھ اسکول کا لنچ بھی گھر کی کوئی چیز بنا کر دیں یا پھل وغیرہ دیں اس کے ساتھ پانی کی بوتل بھی ضرور دیں اور اس کے ساتھ پانی پینے کی تاکید کر دیں۔ کیونکہ اکثر بچے پانی پینا بھول جاتے ہیں جس کی وجہ سے پانی کی کمی یا گردوں کی تکلیف کا شکار ہوجاتے ہیں۔
یہ کچھ باتیں یا ٹپس ہیں جو کہ بچوں کی صحت کے لئے بہت ضروری ہیں۔ اگران پرعمل کیا جائے توآپ کا بچہ بھی صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔

By Afshan    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    836 Views    |    13 May 2022

Related Articles

Comments/Ask Question

Read Blog about کیا آپ کے بچے کو بھی سب موٹا موٹا کہہ کر چھیڑتے ہیں، اپنے بچے کو موٹا نہیں صحت مند رکھیں اسے متوازن غذا کا عادی بنانے کی کچھ ٹپس and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (کیا آپ کے بچے کو بھی سب موٹا موٹا کہہ کر چھیڑتے ہیں، اپنے بچے کو موٹا نہیں صحت مند رکھیں اسے متوازن غذا کا عادی بنانے کی کچھ ٹپس) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.