آنکھ کیوں پھڑکتی ہے؟ جانیں اس کی 7 اصل وجوہات

Ankh Kyun Pharakti Hai

آنکھ کا ایک بار یا بار بار پھڑکنا ایک عام مگر قابلِ توجہ طبی مسئلہ ہے، جسے طبّی اصطلاح میں آئی لِڈ مایوکیمیا کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پلکوں کے پٹھوں کی غیر ارادی حرکت ہوتی ہے جو عموماً وقتی اور بے ضرر ہوتی ہے، تاہم متاثرہ فرد کو اس کی شدت زیادہ محسوس ہو سکتی ہے جبکہ دیگر افراد کو اکثر یہ واضح طور پر نظر نہیں آتی۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ آنکھ پھڑکنا زیادہ تر جسم میں کسی وقتی عدم توازن یا طرزِ زندگی میں بے اعتدالی کا نتیجہ ہوتا ہے، اور اکثر معمولی احتیاط سے خود بخود ختم ہو جاتا ہے۔

آنکھ پھڑکنے کی عام وجوہات

ماہرین نے اس کیفیت کی چند نمایاں وجوہات بیان کی ہیں:

ذہنی دباؤ اور بے چینی اس مسئلے کی بڑی وجہ سمجھی جاتی ہے، کیونکہ زیادہ اسٹریس پٹھوں میں تناؤ پیدا کر کے اعصابی نظام کو متحرک کرتا ہے، جس سے پلکوں میں حرکت شروع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح نیند کی کمی اور مسلسل تھکن بھی آنکھوں کے پٹھوں پر دباؤ ڈالتی ہے، جس کے نتیجے میں پلکوں میں جھٹکے محسوس ہوتے ہیں۔

کیفین اور دیگر محرک اشیاء جیسے چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال اعصابی نظام کو حد سے زیادہ سرگرم کر دیتا ہے، جو اس مسئلے کو بڑھا سکتا ہے۔

آنکھوں پر زیادہ دباؤ، خصوصاً طویل وقت تک موبائل، کمپیوٹر یا دیگر اسکرینز کا استعمال بھی اس کیفیت کا سبب بنتا ہے، کیونکہ اس سے آنکھوں میں تھکن پیدا ہوتی ہے۔

غذائی کمی بھی ایک اہم عنصر ہے، خاص طور پر میگنیشیئم، پوٹاشیئم اور وٹامن بی 12 کی کمی پٹھوں کے کھنچاؤ سے جڑی ہوتی ہے۔

اس کے علاوہ آنکھوں میں خشکی، الرجی یا فضائی آلودگی کے باعث جلن بھی پلکوں کی غیر ارادی حرکت کو بڑھا سکتی ہے۔

بعض ادویات کے مضر اثرات بھی اس مسئلے کا باعث بن سکتے ہیں، خصوصاً وہ ادویات جو اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

سنجیدہ طبی وجوہات

اگر آنکھ پھڑکنے کی شکایت طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ بعض نایاب مگر سنجیدہ بیماریوں کی علامت بھی ہو سکتی ہے۔ ان میں بینائن اسینشل بلیفروسپازم شامل ہے، جس میں دونوں آنکھیں بے قابو انداز میں بند ہونے لگتی ہیں، جبکہ ہیمی فیشل اسپازم میں چہرے کے ایک حصے میں جھٹکے پھیل جاتے ہیں۔

مزید برآں بعض اعصابی امراض جیسے بیلز پالسی، ملٹی پل اسکلروسیس، پارکنسن بیماری اور ٹوریٹ سنڈروم بھی اس کیفیت سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر آنکھ پھڑکنے کی علامات ایک ہفتے سے زیادہ برقرار رہیں تو اسے نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اسی طرح آنکھ میں سوجن، سرخی، رطوبت، یا آنکھ کا مکمل بند ہونا شروع ہو جائے تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔

اگر جھٹکے چہرے یا جسم کے دیگر حصوں تک پھیل جائیں، یا بینائی میں تبدیلی اور دیگر غیر معمولی علامات ظاہر ہوں تو بھی ماہر ڈاکٹر سے رجوع کرنا ناگزیر ہے۔

احتیاطی تدابیر

طبی ماہرین کے مطابق اس مسئلے سے بچاؤ کے لیے مناسب نیند، ذہنی دباؤ میں کمی، متوازن غذا اور کیفین کے استعمال میں اعتدال انتہائی مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ بیشتر کیسز میں یہی سادہ احتیاطی اقدامات آنکھ پھڑکنے کی شکایت کو خود بخود ختم کر دیتے ہیں، تاہم مسلسل یا شدید علامات کی صورت میں بروقت تشخیص اور علاج ضروری ہے۔

Ankh Kyun Pharakti Hai

Discover a variety of Health and Fitness articles on our page, including topics like Ankh Kyun Pharakti Hai and other health issues. Get detailed insights and practical tips for Ankh Kyun Pharakti Hai to help you on your journey to a healthier life. Our easy-to-read content keeps you informed and empowered as you work towards a better lifestyle.

By Arooj Bhatti  |   In Health and Fitness  |   0 Comments   |   283 Views   |   05 Apr 2026
About the Author:

Arooj Bhatti is a content writer with expertise in publishing news articles with strong academic background. Arooj Bhatti is dedicated content writer for news and featured content especially food recipes, daily life tips & tricks related topics and currently employed as content writer at kfoods.com.

Related Articles
Top Trending
COMMENTS | ASK QUESTION (Last Updated: 18 May 2026)

آنکھ کیوں پھڑکتی ہے؟ جانیں اس کی 7 اصل وجوہات

آنکھ کیوں پھڑکتی ہے؟ جانیں اس کی 7 اصل وجوہات ہر کسی کے لیے جاننا ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک اہم معلومات ہے۔ آنکھ کیوں پھڑکتی ہے؟ جانیں اس کی 7 اصل وجوہات سے متعلق تفصیلی معلومات آپ کو اس آرٹیکل میں بآسانی مل جائے گی۔ ہمارے پیج پر کھانوں، مصالحوں، ادویات، بیماریوں، فیشن، سیلیبریٹیز، ٹپس اینڈ ٹرکس، ہربلسٹ اور مشہور شیف کی بتائی ہوئی ہر قسم کی ٹپ دستیاب ہے۔ مزید لائف ٹپس، صحت، قدرتی اجزاء اور ماڈرن ریمیڈی کے فوڈز میں موجود ہے۔

Get Alerts