ہمارے 9 بچے ضائع ہوئے، بیوی دماغی مریضہ بن گئی ۔۔ بھینسوں کے باڑے میں زندگی گزارنے والا بزرگ جوڑا، جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، دیکھیے

میاں بیوی کو ایک سائیکل کے دو پہیے کہا جاتا ہے، یوں ہی نہیں کہا جاتا ہے کیونکہ دونوں ہی ایک دوسرے کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے ہیں۔

ایسا ہی کچھ ملتان کے رکشہ ڈرائیور نے ثابت کیا ہے جو کہ ذہنی طور پر کمزور اہلیہ کو بجائے تنہا چھوڑنے کے اپنے ساتھ رکشے میں لے کر گھومتا ہے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے مختار احمد ویسے تو خوش گو اور ملنسار طبیعت کے مالک ہیں مگر ان کی اہلیہ کی بیماری نے انہیں پریشان کر دیا ہے۔ کیونکہ اہلیہ کو سنبھالنے والا دوسرا کوئی نہیں ہے۔

مختار احمد کی شادی شاہین اختر سے ہوئی تھی، شادی ملتان میں ہوئی تھی مگر شادی کے پانچویں روز ہی جوڑا کراچی آ گیا، کیونکہ مختار احمد کا کاروبار کراچی میں تھا۔ شادی شدہ جوڑا ایک خوش گوار زندگی گزار رہا تھا، مگر یکے بعد دیگرے شاہین اختر کے 9 بچے ضائع ہو چکے تھے، جس کی وجہ سے وہ شدید تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہو گئی تھیں۔

اسی ڈپریشن اور اسٹریس کو انہوں نے اپنے اوپر اس حد تک حاوی کیا کہ وہ دماغی مریض بن گئیں، بچوں کے ضائع ہونے کا غم انہیں سب کچھ بھلا بیٹھا ہے۔

مختار احمد کہتے ہیں کہ آخری بچہ جب ضائع ہوا تو شاہین کافی پریشان ہو گئی تھیں، جیسے ان کی زندگی ختم ہو گئی ہو۔ وہ دماغی طور پر پریشان ہو گئی تھیں۔

مختار احمد کی جانب سے بی بی سی کو انٹرویو دیا گیا، اس سے پہلے بھی بی بی سی نے ان کی کہانی کو سوشل میڈیا پر اپلوڈ کیا تھا، اس وقت ان کے پاس رہنے کو جگہ بھی نہیں تھی، نہ ہی کھانے کو کھانا، یہاں تک کہ انہیں نہانے کے لیے بھی کپڑے پہننا پڑتا تھا۔

دراصل اہلیہ شاہین اختر کے علاج کے لیے مختار نے اپنا گھر کا ایک حصہ بھی بیچ دیا، کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا، ساتھ ہی ساتھ گھر کو بیچ کر جو پیسے آئے تھے وہ بھی 6 ماہ کے اندر ختم ہو گئے۔

مختار احمد اہلیہ کی صحتیابی کے لیے ہر حد تک جا سکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی اہلیہ کی خاطر سب کچھ بیچ چکے ہیں۔ اس وقت بھی وہ ایک بھانے میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہیں جہاں صرف ایک کمرہ موجود ہے، جبکہ آس پاس بھینسیں اور گائیں۔
اس کمرے میں ان کے استعمال کی چیزیں موجود ہیں جبکہ دو چارپائیاں موجود ہیں۔ مختار احمد رکشہ چلا کر اپنا گزر بسر کر رہے ہیں، چونکہ اہلیہ کو گھر پر اکیلا چھوڑ نہیں سکتے ہیں اسی لیے وہ اہلیہ وک رکشہ میں ساتھ بٹھا کر سواری کو منزل تک پہنچانے کے لیے نکل جاتے ہیں۔

مختار بتاتے ہیں کہ کچھ خواتین اہلیہ کو دیکھ کر رکشے میں نہیں بیٹھتی ہیں اور انہیں پاگل کہتی ہیں، انہیں ایسا بولتا دیکھ کر مجھے افسوس اور دکھ ہوتا ہے، جبکہ پڑھے لکھے لوگ میری اہلیہ سے بات بھی کرتے ہیں اور خوش بھی ہوتے ہیں۔
مختار احمد رکشہ چلا کر اپنی اہلیہ کی دوائیوں کا خرچہ بھی اٹھا رہے ہیں اور گھر ک خرچ بھی سنبھالے ہوئے ہیں۔ مختار احمد کی اہلیہ شاہین اپنے شوہر سے بے حد محت کرتی ہیں، دماغی طور پر کمزور ہونے کے باوجود وہ اپنے شوہر کے لیے احساسات اور جذبات رکھتی ہیں۔

مختار احمد پُر امید ہیں کہ ان کی اہلیہ اور وہ اپنی باقی کی زندگی خوش و کرم طریقے سے گزاریں گے۔

By Fahad  |   In News  |   0 Comments   |   1078 Views   |   06 Nov 2022
Related Articles
Top Trending
Comments/Ask Question

Read Blog about ہمارے 9 بچے ضائع ہوئے، بیوی دماغی مریضہ بن گئی ۔۔ بھینسوں کے باڑے میں زندگی گزارنے والا بزرگ جوڑا، جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، دیکھیے and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (ہمارے 9 بچے ضائع ہوئے، بیوی دماغی مریضہ بن گئی ۔۔ بھینسوں کے باڑے میں زندگی گزارنے والا بزرگ جوڑا، جو ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، دیکھیے) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.