کیا آپ کا بچہ بھی دو سال کی عمر تک کچھ بول نہیں پارہا ،اس کا رویہ پرتشدد ہے؟ کہیں وہ آٹزم کا شکار تو نہیں؟

آٹزم کیا ہے؟

کلینکل سائیکولوجسٹ کہتے ہیں کہ یہ نیورولوجیکل کنڈیشن ہے ، اس میں بچہ رسپانس نہیں دیتا ،آٹزم کا شکار بچہ گم سم رہتا ہے۔ یہ ایک ڈس آرڈر ہے ڈس ایبیلٹی نہیں ہے۔ اگر دو سال کی عمر میں بھی بچہ دو الفاظ کو جوڑ کر بات نہیں کر پاتا تو آپ کو اس کو توجہ دینے کی ضرورت ہے اس پر نظر رکھیں اس کے رویے کا مشاہدہ کریں کہ کہیں وہ آٹزم کا شکار تو نہیں۔ ہمارے یہاں علاج اور ان بچوں میں کام پر اس لئے دیر ہوتی ہے کیونکہ والدین اس بات کو قبول نہیں کر پاتے کہ ان کا بیٹا کسی ڈس آرڈر کا شکار ہے۔ تین سال کی عمر میں آپ کو اندازہ ہونا شروع ہوتا ہے کہ بچہ نارمل نہیں ہے۔

آٹزم کی علامات کیا ہیں؟

ویسے تومغربی ممالک میں ڈاکٹرز6 ماہ کی عمر میں ہی اس چیز کی نشاندہی کردیتے ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ڈاکٹرز کو ابھی تک اس چیز کا اندازہ نہیں ہوا، وہ یہی کہتے ہیں کہ ہر بچے کی صلاحیت الگ ہوتی ہے کچھ بچے جلدی سیکھتے ہیں کچھ دیر میں ، اور اسی وجہ سے والدین مطمئن ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور وہ بچے کو نارمل بچوں کے ساتھ ہی ٹریٹ کرتے ہیں،لیکن آٹزم میں بچہ بولنے میں مشکل محسوس کرتا ہے ،یہ بچے پارک میں نہیں جا سکتے، لوگوں میں جانے سے گھبراتے ہیں ، ان کا رویہ پر تشدد ہوتا ہے، کہیں جانے میں تنگ کرتے ہیں، ان میں بے چینی اور اضطراب زیادہ ہوتا ہے، لوگوں سے نظریں چراتے ہیں ، یہ بچے خوفزدہ رہتے ہیں۔

آٹزم کی ٹریٹمنٹ کیا ہے؟

ایسے بچوں کو بولنے میں مشکل پیش آتی ہے، سننے میں پریشانی ہوتی ہے۔ اس کے کچھ ٹیسٹ ہوتے ہیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ بچہ آٹزم کا چکار ہے، بچے کے اوپر کام کرنا پڑتا ہے۔ اس کو ایک ایک لفظ سکھانا پڑتا ہے، ٹوائلٹ ٹریننگ کروانا بہت مشکل ہوتا ہے۔ ماں باپ کو خود سیکھنا پڑتا ہے پھر ہی بچے کو سکھا سکتے ہیں۔ جو والدین ان بچوں کے علاج میں دلچسپی نہیں لیتے ان کے بچے بہت مشکل کا شکار ہوجاتے ہیں ان کو نارمل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ پاکستا ن میں کوئی خاص اسکول نہیں ہے کہ جہاں آٹزم کا شکار بچوں کو داخل کیا جاسکے۔ آٹزم اسپیکٹرم ڈس آرڈر ہے۔ یہ زندگی بھر کی محرومی ہے اس پر اگر مسلسل کام کیا جائے تو بہتری ہو جاتی ہے۔ اس میں وٹامن بی 12 کے انجیکشن لگوانے پڑتے ہیں جو کہ بولنے میں کام آتا ہے۔ یہ عام طورپر لڑکوں میں زیادہ ہوتا ہے۔ لڑکیوں میں یہ کم ہوتا ہے۔ لیکن اس کی شکار لڑکیاں شرمیلی، کم گو اور تنہائی پسند ہوتی ہیں۔ اس کی تھیراپیز کروانی ضروری ہے۔

By Afshan    |    In Health and Fitness   |    0 Comments    |    1803 Views    |    24 May 2022

Related Articles

Comments/Ask Question

Read Blog about کیا آپ کا بچہ بھی دو سال کی عمر تک کچھ بول نہیں پارہا ،اس کا رویہ پرتشدد ہے؟ کہیں وہ آٹزم کا شکار تو نہیں؟ and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (کیا آپ کا بچہ بھی دو سال کی عمر تک کچھ بول نہیں پارہا ،اس کا رویہ پرتشدد ہے؟ کہیں وہ آٹزم کا شکار تو نہیں؟) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.