کیا آپ کا بچہ بھی ہر وقت موبائل یا گیجٹس میں گم رہتا ہے؟ بچوں کو اسکرین کی خطرناک عادت سے نجات دلانا کیا اب ممکن ہے؟

موجودہ دورمیں جہاں زندگی میں اسٹیٹس اور ترقی کی بنیاد ڈیجیٹل گیجٹس کی بہتات سمجھی جارہی ہے، وہاں انسان اپنی اس آسانی اورترقی کی بہت بھاری قیمت ادا کر رہا ہے، اس صورت میں کہ یہ ڈیجیٹل دنیا ہر انسان کے لیے ایک چیلنج بن چکی ہے، ہر شخص کسی نہ کسی طرح اس میں مصروف ہے، کوئی بھی محفوظ نہیں رہا ۔ کچھ عرصہ پہلے تک اسکرینز کا استعمال محتاط حد تک کیا جاتا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا رجحان بڑھتا چلا جارہا ہے۔

٭ اگر ہم مضر اثرات کی بات کریں تو سب سے پہلا نقصان جو سامنے آرہا ہے وہ یہ ہے کہ اس سے بچوں کی ذہنی صلاحیت ، ان کی توجہ اور ارتکاز ( کنسنٹریشن ) کی صلاحیت کم ہورہی ہے۔ دوسرا بڑا نقصان جو بچوں میں زیادہ نظرآ رہاہے وہ ان کی بولنے کی صلاحیت ہے۔ جب تین یا چار سال کا بچہ بولنے میں دقت کا سامنا کرتا ہے یا بات چیت یا میں جھجھک محسوس کرتا ہے تو اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ ان اسکرینز کی وجہ سے کسی سے بات چیت نہیں کرتا کسی ایکٹویٹی میں دلچسپی نہیں لیتا جس کا نتیجہ یہی نکلتا ہے۔ نظر کی کمزوری تو آج کل ایک معمول کا مسئلہ سمجھا جاتا ہے۔

٭اسکرین ایڈکشن کے لئے فکر مند ہونا یا صرف باتیں کرنا مسئلے کا حل نہیں ہے ، بلکہ اب یہ آپ کے لئے چیلنج ہے، اس کے لئے نہ صرف بچوں کو گھر کے اندرمثبت سرگرمیاں فراہم کریں بلکہ باہر کے لئے بھی مصروفیت تجویز کریں۔ اس کے ساتھ کتاب پڑھنے کی ، کہانیاں سننے اور پڑھنے کی بھی عادت ڈالیں۔

٭اگر بحیثیت والدین ہم اس خطرے کا ادراک کرلیں کہ بچوں کو موبائل یا ٹیبلٹ پکڑا کر ہم کتنا بڑا نقصان کر رہے ہیں تو ہم کبھی اپنے بچوں کو یہ لت نہ لگائیں۔ ان گیجٹس کی وجہ سے بچوں کے مزاجوں میں جارحانہ پن، بدتمیزی اور خودسری پروان چڑھتی ہے۔ ان کی سوشل لائف ختم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہی چھوٹی عمر کے بچوں میں آٹزم اور ہائپرایکٹیویٹی سنڈروم جیسی ذہنی بیماریوں کا رجحان بھی بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ حالانکہ اس سے پہلےیہ مسائل کبھی سینکڑوں میں سے ایک میں سننے میں آتے تھے۔

٭اگر آپ واقعی سنجیدگی سے اپنے بچوں کی یہ عادت بدلنے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو بھی کچھ قربانی دینا ہوگی۔ اپنی مصروفیات کو کم کر کے بچوں پر اپنا وقت لگانا ہو گا۔ اپنے اندر برداشت پیدا کرنی ہوگی۔ مصروفیت اور وقت نہ ہونے کا بہانہ آپ کے بچوں کو اپنے کول میں بند کر دے گا۔

٭بچوں کو گیجٹس کی دنیا سے باہر لانے کے لئے آپ کو اپنے اندر برداشت اور مستقل مزاجی پیدا کرنا ہوگی۔ غصے سے آپ صرف اپنا نقصان پیدا کرتے ہیں ۔ بچوں کو اپنا بنانے کے لئے صبر کا دامن تھامنا ہوگا۔بچوں کا دوست بننا ہوگا۔ ان کے برابر کے لیول پر آکران کی ذہنی سطح کے مطابق کام کرنا ہوگا۔

٭اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ اسکرین ٹائم کم کرے تو اس کے لئے آپ کو رول ماڈل بننا ہوگا، اگر آپ خود اپنا فارغ وقت مستقل اپنے موبائل یا ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ کو دیتے ہیں تو اپنے بچے سے یہ توقع رکھنا کہ وہ فزیکل ایکٹویٹی کرے بالکل فضول اور ناجائز ہے کیونکہ بچہ وہی کرے گا جو وہ دیکھے گا۔ اس لئے بچے سے اسکرین کی لت ختم کرنے کے لئے آپ کو اپنے آپ کو سدھارنا ہوگا۔

٭جب آپ اپنی فیملی کے ساتھ ہوں تو ہر شخص کو اس بات کا پابند کریں کہ کوئی بھی اس وقت کسی قسم کا گیجٹ استعمال نہیں کرے گا۔ فیملی ٹائم مکمل ایک دوسرے کے لئے ہو۔ یہ پوری فیملی کی ذہنی صحت کے لئے ضروری ہے۔

٭عموماً مائیں بچوں کواس وقت موبائل یا لیپ ٹاپ تھما دیتی ہیں جب وہ مصروف ہوں یا بچہ تنگ کر رہا ہو۔ ایسے میں اس کو کسی دوسری سرگرمی میں مصروف کرنے کے بجائے آپ اپنی جان چھڑانے کے لئے اس کو یہ گیجٹس تھما دیتی ہیں ، یہ انتہائی غلط قدم ہے۔ اس سے وہ اس بات کا عادی ہوجائے گا کہ میں شور کروں یا ضد کروں تو مجھے موبائل مل جائے گا، اس لئے ایسا کرنے سے گریز کریں۔اس کو بہلانے کے لئے کوئی دوسرا کھیل ڈھونڈئیے۔

٭اگر بچوں کو کبھی کسی وقت گیجٹ دینا ضروری ہوجائے تو بھی چیک اینڈ بیلنس ضروری ہے، یاد رکھیں کہ بہت جارحانہ ، تیز رنگوں، تیز میوزک ، آوازوں، غیر اخلاقی اور غلط عقائد کے حوالے سے مواد بچوں کو نہ دکھایا جائے بچوں کو موبائل، ٹیبلٹ یا لیپ ٹاپ دینے کے بعد ان پر نظر رکھنی ضروری ہے۔

Bachon Ko Screen Ki Adat Se Kese Nijat Dilain

Discover a variety of News articles on our page, including topics like Bachon Ko Screen Ki Adat Se Kese Nijat Dilain and other health issues. Get detailed insights and practical tips for Bachon Ko Screen Ki Adat Se Kese Nijat Dilain to help you on your journey to a healthier life. Our easy-to-read content keeps you informed and empowered as you work towards a better lifestyle.

By Afshan  |   In News  |   0 Comments   |   6427 Views   |   15 Jun 2022
About the Author:

Afshan is a content writer with expertise in publishing news articles with strong academic background. Afshan is dedicated content writer for news and featured content especially food recipes, daily life tips & tricks related topics and currently employed as content writer at kfoods.com.

Related Articles
Top Trending
COMMENTS | ASK QUESTION (Last Updated: 16 July 2024)

کیا آپ کا بچہ بھی ہر وقت موبائل یا گیجٹس میں گم رہتا ہے؟ بچوں کو اسکرین کی خطرناک عادت سے نجات دلانا کیا اب ممکن ہے؟

کیا آپ کا بچہ بھی ہر وقت موبائل یا گیجٹس میں گم رہتا ہے؟ بچوں کو اسکرین کی خطرناک عادت سے نجات دلانا کیا اب ممکن ہے؟ ہر کسی کے لیے جاننا ضروری ہیں کیونکہ یہ ایک اہم معلومات ہے۔ کیا آپ کا بچہ بھی ہر وقت موبائل یا گیجٹس میں گم رہتا ہے؟ بچوں کو اسکرین کی خطرناک عادت سے نجات دلانا کیا اب ممکن ہے؟ سے متعلق تفصیلی معلومات آپ کو اس آرٹیکل میں بآسانی مل جائے گی۔ ہمارے پیج پر کھانوں، مصالحوں، ادویات، بیماریوں، فیشن، سیلیبریٹیز، ٹپس اینڈ ٹرکس، ہربلسٹ اور مشہور شیف کی بتائی ہوئی ہر قسم کی ٹپ دستیاب ہے۔ مزید لائف ٹپس، صحت، قدرتی اجزاء اور ماڈرن ریمیڈی کے فوڈز میں موجود ہے۔