Never Put A Lemon Wedge In Your Water Again

Bacteria in Lemon Wedges

ریسٹورنٹس میں عموماً مشروب کے گلاس کے اوپر لیموں کا ٹکڑا لگا کر پیش کیا جاتا ہے اور بعض لوگ اسے مشروب میں ڈال لیتے ہیں لیکن اب اس لیموں کے ٹکڑے کے متعلق ماہرین نے ایسا خوفنا ک انکشاف کر دیا ہے کہ کوئی شخص اسے مشروب میں ڈالنا تو درکنار ، گلاس کے اوپر بھی لگا نہیں رہنے دے گا۔

ماہرین نے بتایا ہے کہ مشروب کے گلاس پر لگا لیموں کا ٹکڑا خطرناک بیکٹیریا کا گھر ہوتا ہے کیونکہ گیلا لیموں 100فیصد خطرناک بیکٹیریا اپنے اندر جذب کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس کے برعکس خشک لیموں میں یہ شرخ 30فیصد ہوتی ہے ۔

ماہرین کا مزیدکہنا تھا کہ لیموں کاٹتے وقت ہاتھوں پر جتنے بھی مضر صھت بیکٹیریا ہوتے ہیں وہ 100فیصد لیموں پر منتقل ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ گلاس اور دیگر برتنوں سے بھی بیکٹیریا لیموں پر منتقل ہوتے ہیں اور آخرکار مشروب میں شامل ہوکر آدمی کے جسم میں چلے جاتے ہیں ۔ برف بھی ہاتھوں یا دیگر سطحوں سے مس ہونے پر ان پر موجود 100فیصد بیکٹیریا اپنے اندر سمولیتی ہیں اور یہ دونوں چیزوں مشروب میں شامل ہوکر ان بیکٹیریا کو صارفین کے جسم میں داخل کر دیتی ہیں ۔

After reading this article, you would never put a lemon wedge in water or even on the edge of your glass.

Usually, in restaurants, piece of a cut lemon is attached on brim of your drink glass. Some people even soak it in the drink. Now according to the latest research, health experts have disclosed that it is home of bacteria.

Wet lemon is able to absorb 100% dangerous bacteria in it whereas in a dry lemon, this ratio is up to 30%.

Read more about risks of putting lemon wedge in water in Urdu below.

By Aqib Shahzad    |    In News   |    0 Comments    |    11788 Views    |    26 Jun 2018

Comments/Ask Question

Read Blog about Never Put A Lemon Wedge In Your Water Again and health & fitness, step by step recipes, Beauty & skin care and other related topics with sample homemade solution. Here is variety of health benefits, home-based natural remedies. Find (Never Put A Lemon Wedge In Your Water Again) and how to utilize other natural ingredients to cure diseases, easy recipes, and other information related to food from KFoods.